اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں - آسان الفاظ میں
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ پاک نے انسان کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام بھیجے تاکہ وہ اپنی پہچان کروائیں۔ اس سلسلے کی شروعات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور ختم نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا واقعہ

اللہ پاک نے انسان کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام بھیجے تاکہ وہ اپنی پہچان کروائیں۔ اس سلسلے کی شروعات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور ختم نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی۔
حضرت آدم علیہ السلام کو علم کی فضیلت
جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا تو فرشتوں نے عرض کیا: "اے اللہ! ہم تیری عبادت کرتے ہیں، پھر انسان بنانے کی کیا ضرورت ہے؟"
اللہ نے فرمایا: "جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے"۔
پھر اللہ نے کچھ چیزوں کے نام حضرت آدم علیہ السلام کو سکھائے۔ جب وہی نام فرشتوں سے پوچھے گئے تو وہ بولے: "اے اللہ! تیرے سوا کون بہتر جان سکتا ہے؟"
اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا: "تم ان چیزوں کے نام بتاؤ"۔ حضرت آدم علیہ السلام نے بتا دیے۔
اللہ نے فرمایا: "میں نے کہا تھا نا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے"۔
شیطان کا سجدے سے انکار
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ سب نے سجدہ کیا لیکن شیطان نے انکار کر دیا۔ اللہ نے پوچھا: "کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے روکا؟"
ابلیس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں۔ اللہ نے فرمایا: "نکل جا یہاں سے"۔ اس میں تکبر بھی چھپا تھا اور اللہ کے حکم کا انکار بھی۔اہم سبق: آج کچھ لوگ کہتے ہیں اگر فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا تو ہم بھی قبروں کے سامنے جھک سکتے ہیں۔ یہ شرک کی شروعات ہے۔ وہ حکم صرف حضرت آدم علیہ السلام کے لیے تھا تاکہ انسان کا مقام ظاہر ہو۔ فرشتوں نے انسان کو سجدہ کیا، انسان نے انسان کو نہیں۔
شرک کا مطلب ہے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ جیسے کسی کی ذاتی زمین ہو اور کوئی آ کر کہے کہ "اس میں میرا بھی حصہ ہے"۔ تو مالک کو غصہ آتا ہے۔
بالکل اسی طرح جب ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارتے ہیں تو یہ اللہ کی توحید میں شراکت ہے۔اللہ فرماتا ہے: "میری رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو"۔
رسی کے دو سرے ہوتے ہیں۔ ایک سرا قرآن ہے اور دوسرا سرا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ دونوں کو پکڑنا ضروری ہے۔
سورۃ البقرہ آیت 186: "اے نبی! جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو فرما دو میں شہ رگ سے بھی قریب ہوں، ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں"۔سورۃ الجن: "جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے"۔صحیح بخاری کی حدیث: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری امت کے 70 ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہر مشکل میں صرف اللہ کو پکارا اور اپنا یقین صرف اللہ پر رکھا"۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا واقعہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کو توحید کی دعوت دی۔ نمرود نے کہا: "اگر سچے ہو تو اللہ سے عذاب منگواؤ"۔
اللہ نے مچھروں کا لشکر بھیجا۔ ایک مچھر نمرود کی ناک میں گھس گیا۔ وہ جوتے کھا کھا کر مرا۔
سبق: اللہ کی کسی مخلوق کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
حضرت نوح علیہ السلام نے 300 سال تک قوم کو سمجھایا لیکن وہ نہ مانے۔ اللہ کے حکم سے 100 سال میں کشتی بنائی۔
جب طوفان آیا تو نوح علیہ السلام کے بیٹے نے انکار کر دیا۔ وہ ڈوب گیا۔
سبق: اللہ کا کوئی رشتہ دار نہیں۔ انسان دوسرے سے صرف تقوی کی بنیاد پر بہتر ہے۔ https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-noh-as-ka-waqia-quran-sunnat-ki.html
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نصیحت
جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت حسن کو نصیحت کی: "بیٹا! جب بھی مشکل آئے تو مدد صرف اللہ سے مانگنا۔ اللہ کی بارگاہ میں کوئی دربان نہیں جو روکے"
ایک صحابی نے کہا: "جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوگا"۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم نے مجھے اللہ کے ساتھ جوڑ دیا۔ یوں کہو: اگر اللہ اکیلا چاہے گا تو کامیاب کرے گا"۔
سورۃ الاخلاص
اللہ ایک ہے۔ اس کا کوئی وارث نہیں۔ نہ وہ پیدا ہوا اور نہ اس نے کسی کو پیدا کیا۔ خلاصہ اور سبق
سورۃ الاخلاص
اللہ ایک ہے۔ اس کا کوئی وارث نہیں۔ نہ وہ پیدا ہوا اور نہ اس نے کسی کو پیدا کیا۔ خلاصہ اور سبق
حضرت آدم علیہ السلام سے توحید کا سلسلہ شروع ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا۔
جس انسان کے دل میں توحید نہیں اس کی کوئی عبادت قبول نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شکایت کریں گے: "اے اللہ! میری امت نے قرآن کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا"۔
قرآن اور سنت کے خلاف کوئی بھی کام کرنا شرک ہے۔دعا: اللہ ہم سب کو قرآن اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔
جی بھائی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا سورہ اخلاص کے متعلق ایک مشہور واقعہ ہے 👇
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو احادیث لکھنے کا بہت شوق تھا۔ اسی لیے انہوں نے سب سے زیادہ احادیث روایت کیں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے دن اپنی امت کے لیے اللہ کے حضور پیش ہوں گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! آپ کس کی شفاعت کریں گے؟"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھے یقین تھا کہ تم یہ سوال ضرور کرو گے۔ خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا جس نے اللہ کے سوا کسی کو مدد کے لیے نہ پکارا اور جس نے قرآن اور میری سنت کا دامن کبھی نہ چھوڑا"۔
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے شکایت
سبق
اس پوری تحریر سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں صرف اللہ سے مدد مانگنی چاہیے اور شرک سے بچنا چاہیے۔ اللہ ہم سب کو توحید پر قائم رکھے۔ آمین
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/there-is-no-god-but-allah-explain-in.html
اللہ تعالی نے اپنی توحید کا ذکر قرآن میں بہت جگہ ارشاد فرمایا ہے۔ سورۃ الاخلاص میں اللہ فرماتا ہے:
"کہو کہ اللہ ایک ہے۔ وہ اپنی ذات میں یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ اس کے والدین ہیں۔ وہ ہر لحاظ سے بے نیاز ہے"۔
توحید کی سب سے زیادہ اہمیتتوحید وہ میٹھا شہد ہے جس کا ذائقہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام نے چکھا ہے۔
توحید کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوتا ہے اور آخری نبی رحمت للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوتا ہے۔
اور ان کا پیغام اللہ کے نیک بندے امت تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ وہی ذمہ داری ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔
یاد رکھیں! جس انسان کے دل میں توحید نہیں اس کی کوئی عبادت قبول نہیں ہو گی۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے شکایت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں قیامت کے دن اپنے ہر امتی کو دوزخ سے نکالوں گا، لیکن جسے قرآن روک لے اسے نہیں نکال سکوں گا"۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر امتی کو جنت میں داخل کروائیں گے، لیکن کچھ کو قرآن روک لے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شفاعت کے ساتھ شکایت بھی کریں گے: "اے اللہ! میری امت نے قرآن کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا تھا"۔قرآن کے مطابق قرآن اور سنت سے ہٹ کر کوئی بھی کام کرنا شرک ہے۔ ایسا کام کرنا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اور اللہ کا حکم شامل نہ ہو، وہ بھی شرک ہے۔
جو اس کا اعلان کرتا ہے کہ "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں" وہی حقیقی مومن ہے۔
سبق
اس پوری تحریر سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں صرف اللہ سے مدد مانگنی چاہیے اور شرک سے بچنا چاہیے۔ اللہ ہم سب کو توحید پر قائم رکھے۔ آمین
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/there-is-no-god-but-allah-explain-in.html


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں