حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کی محبت | قرآن و حدیث اور شیعہ کتب کی روشنی میں
درمیان محبت اور احترام کی مثالیں تاریخ میں واضح طور پر ملتی ہیں۔
قرآن کی روشنی میں صحابہ کا مقام
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: "محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں"۔ سورہ فتح: 29
اس آیت میں "جو ان کے ساتھ ہیں" سے مراد صحابہ کرام ہیں، جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں
قرآن میں اہلِ بیت کی فضیلت
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: "اے اہلِ بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے"۔ سورہ احزاب
یہ آیت اہلِ بیت کی پاکیزگی کو بیان کرتی ہے۔
شیعہ نظریہ اور ایک اہم سوال
شیعہ کتب میں اہلِ بیت کا بہت مقام ہے اور خلفاءِ راشدین میں سے وہ صرف امام علی علیہ السلام اور ام حسن علیہ السلام کو
مانتے ہیں۔ باقی تین خلفاء کو نہیں مانتے۔لیکن قرآن کہتا ہے: "اللہ نے اہلِ بیت سے ہر قسم کی ناپاکی دور کر دی"۔
ہمارا ایمان ہے کہ اہلِ بیت پاک ہیں۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: اگر حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہم پاک نہ ہوتے تو کیا وہ آج بھی
نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں مدفون نہ ہوتے؟
اللہ کے فضل سے وہ سب پاک ہیں اور اللہ نے ان سب کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔
سنی نظریہ | قرآن و حدیث کی روشنی میں
سنی علماء کے مطابق آپ ﷺ کے بعد سب سے زیادہ مقام حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہے اور اس پر پوری امت کا
اجماع ہے۔ تقریباً 90% مسلمان یہی مانتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا
"میری ذات پر سب سے زیادہ احسان ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ میں نے سب کے بدلے اتار دیے، لیکن ابو بکر کا احسان میرا اللہ ہی اتار سکتا ہے"۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ ان کے بیٹے محمد بن
حنفیہ نے اپنے والد امام علیہ السلام سے پوچھا
نبی کریم ﷺ کے رتبے کے بعد سب سے افضل رتبہ کس کا ہے؟
"سب سے افضل ابو بکر ہیں، پھر عمر ہیں"
بیٹے نے کہا: "اس کے بعد آپ ہیں""۔
مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں تو عام مسلمانوں میں سے ہوں"۔
یہ ہے اہلِ بیت کا ایمان کا لیول
قرآن
اللہ قرآن میں فرماتا ہے "
کتنے پاک ہیں وہ لوگ جو حق کو عیاں کرتے ہیں۔ جب ان سے ان کے بارے میں پوچھا جائے تو کہتے ہیں ہم تو عام ہیں" ۔
اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے؟
محبت کا حکم قرآن میں
اللہ قرآن میں فرماتا ہے:
"قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى"
ترجمہ: میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے رشتہ داروں سے محبت کے
علماء نے اس آیت کو اہلِ بیت کی محبت کے لیے بیان کیا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تقویٰ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو الفاروق کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ حق اور باطل میں فرق کرتے تھے۔ آپ کی زندگی عدل، تقویٰ اور
اسلام کی خدمت کی مثال ہے۔
اسلام لانے کا واقعہ
صحیح بخاری: 3864 اور صحیح مسلم: 2392 میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا کی:
"اے اللہ! اسلام میں عمر یا ابو جہل میں سے جس کو چاہے عزت عطا فرما"۔
اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چن لیا۔ پہلے آپ سخت مخالف تھے۔ پھر بہن کے گھر پر قرآن سن کر مسلمان ہوئے۔
اہلِ بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
"جس نے میری اہلِ بیت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی"۔ "
اور دعا فرمائی: "اے اللہ! جو میرے اہلِ بیت سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت فرما"۔
یہ حدیث اہلِ بیت سے محبت کی بنیاد ہے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رشتہ
تاریخ میں ملتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔
مشکل مسائل میں آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا کرتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا
تاریخ میں ملتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلِ بیت کے احترام اور محبت میں کوئی کمی نہیں کی۔
آپ نے آپ ﷺ کے گھرانے کی حرمت کو محفوظ رکھا۔
حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے سلوک
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں ام حسن اور امام حسین علیہ السلام کی تعلیم کا خاص خیال رکھا گیا۔
بیت المال سے ان کے لیے وظیفہ مقرر تھا۔
عدل کی مثال
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں عدل قائم کیا۔
آپ فرماتے تھے: "فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر سے اس کا حساب ہو گا"۔
یہ عدل اہلِ بیت اور تمام مسلمانوں کے لیے تھا۔
شیعہ کتاب "نہج البلاغہ" جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبات ہیں۔ اس میں آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عن کے
دور کو سخت کہا، لیکن عدل کی وجہ سے اسے سراہا بھی گیا۔
اہمیت دی جائے۔
ہے "علم والا"۔
ہو سکتی ہے۔
سے متعلق ویڈیو آپ کو ملتی رہیں۔


Comments
Post a Comment