وہ کون سے صحابی ہیں جن کی حیاتِ مبارکہ آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی؟

آزمائشیں ہی آزمائشیں

 عبداللہ بن جدعان نے فوراً قریش کو سو درہم دیے تاکہ بتوں کی جو توہین ہوئی ہے اس کے بدلے ان کے نام پر کچھ ذبح کر دیا جائے۔ پھر وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا۔ اس نے انہیں رسی سے باندھ دیا۔ تمام دن بھوکا اور پیاسا رکھا پھر تو یہ اس کا روز کا معمول بن گیا۔ جب دوپہر کے وقت سورج آگ برسنے لگتا تو انہیں گھر سے باہر نکال کر تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتے۔ اس وقت ریت اتنی گرم ہوتی اگر اس پر گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا جاتا تو وہ بھی بھن جاتا۔ وہ اسی پر بس نہیں کرتا تھا۔ ایک وزنی پتھر منگواتا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے سینے پر رکھ دیتا تاکہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکیں۔ پھر وہ بدبخت ان سے کہتا،

"اب تو محمد کی رسالت اور پیغمبری سے انکار کر اور لات و عزیٰ کی عبادت کر ورنہ میں تجھے یہاں اسی طرح لٹائے رکھوں گا، یہاں تک کہ تیرا دم نکل جائے۔"

حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس کی بات پر فرماتے "احد احد"

یعنی اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کسی طرح اسلام سے نہ ہٹے تو تنگ آ کر عبداللہ بن جدعان نے انہیں امیہ بن خلف کے حوالے کر دیا۔ اب یہ شخص ان پر اس سے بھی زیادہ ظلم و ستم ڈھانے لگا۔ایک روز انہیں اسی قسم کی خوفناک سزائیں دی جا رہی تھیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف سے گزرے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ شدت تکلیف کی حالت میں احد احد پکار رہے تھے۔ آپ نے انہیں اسی حالت میں دیکھ کر فرمایا۔

"بلال! تمہیں یہ احد احد ہی نجات دلائے گا۔"

پھر ایک روز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ادھر سے گزرے۔ امیہ بن خلف نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو گرم ریت پر لٹا رکھا تھا۔ سینے پر ایک بھاری پتھر رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے یہ دردناک منظر دیکھ کر امیہ بن خلف سے کہا:

"کیا اس مسکین کے بارے میں تمہیں اللہ کا خوف نہیں آتا، آخر کب تک تم اسے عذاب دیتے رہو گے؟"

امیہ بن خلف نے جل کر کہا:

"تم نے ہی اسے خراب کیا ہے، اس لیے تم ہی اسے نجات کیوں نہیں دلا دیتے۔"اس کی بات سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بولے:

"میرے پاس بھی ایک حبشی غلام ہے وہ اس سے زیادہ طاقتور ہے اور تمہارے ہی دین پر ہے میں اس کے بدلے میں تمہیں وہ دے سکتا ہوں۔"یہ سن کر امیہ بولا:

"مجھے یہ سودا منظور ہے۔"یہ سنتے ہی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا حبشی غلام اس کے حوالے کر دیا۔ اس کے بدلے میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو لے لیا اور آزاد کر دیا۔سبحان اللہ! کیا خوب سودا ہوا، یہاں یہ بات جان لینی چاہیے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حبشی غلام دنیا کے لحاظ سے بہت قیمتی تھا، یہ بھی کہا جاتا ہے امیہ بن خلف نے غلام کے ساتھ دس اوقیہ سونا بھی طلب کیا تھا، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ مطالبہ بھی مان لیا تھا، چنانچہ آپ نے اسے ایک قیمتی چادر اور سونا بھی دیا تھا۔

https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/zindagi-ki-azmaishon-se-kaise-niklein.html

ساتھ ہی آپ نے امیہ بن خلف سے فرمایا تھا:

"اگر تم مجھ سے سو اوقیہ سونا بھی طلب کرتے تو بھی میں تمہیں دے دیتا۔"حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور بھی بہت سے غلام مسلمانوں کو خرید کر آزاد فرمایا تھا، یہ وہ مسلمان غلام تھے جنہیں اللہ کا نام لینے کی وجہ سے ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

ان میں ایک حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی والدہ حمامہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ایک عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے، انہیں اللہ کا نام لینے پر بڑے بڑے سخت عذاب دیے جاتے، یہ قبیلہ بن تیم کے ایک شخص کے غلام تھے۔ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رشتے دار تھے۔ آپ نے اپنے رشتے دار سے خرید کر انہیں بھی آزاد فرمایا۔ ایک صاحب ابو فکیہہ رضی اللہ عنہ تھے، یہ صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔ یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی مسلمان ہوئے تھے۔

صفوان بن امیہ بھی ابتدا میں مسلمانوں کے سخت مخالف تھے۔ وہ فتح مکہ کے بعد اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ ایک روز انہوں نے حضرت ابو فکیہہ رضی اللہ عنہ کو گرم ریت پر لٹا رکھا تھا۔ ایسے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس طرف سے گزرے۔ اس وقت صفوان بن امیہ یہ الفاظ کہہ رہے تھے۔

"اسے ابھی تک اور عذاب دو یہاں تک کہ محمد ﷺ یہاں آ کر اسے اپنے جادو سے نجات دلوائیں۔"اسی طرح زنیرہ نامی عورت کو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ایسی ہی سزائیں دی گئیں۔ کہ وہ بیچاری اندھی ہو گئی۔ ایک دن ابو جہل نے اس سے کہا،

"جو کچھ تم پر بیت رہا ہے یہ سب لات و عزیٰ کر رہے ہیں۔"یہ سنتے ہی زنیرہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہرگز نہیں لات و عزیٰ نہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ کوئی نقصان، یہ جو کچھ ہو رہا ہے آسمان والے کی مرضی سے ہو رہا ہے۔

"میرے پروردگار کو یہ بھی قدرت ہے کہ وہ میری آنکھوں کی روشنی لوٹا دے۔" دوسرے دن وہ صبح اٹھی تو ان کی آنکھوں کی روشنی اللہ نے انہیں لوٹا دی تھی۔ اس بات کا جب کافروں کو پتا چلا تو وہ بول اٹھے، "یہ محمد ﷺ کی جادوگری ہے۔"آپ نے زنیرہ کی بیٹی کو بھی خرید کر آزاد کیا۔ اسی طرح نہدیہ نام کی...

مسلمانوں پر ظلم

عامر بن فہیرہ کی بہن اور ان کی والدہ بھی ایمان لے آئی تھیں۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے سے پہلے ان کی باندھیاں تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی خرید کر آزاد کر دیا۔ایمان لانے والے جن مسلمانوں پر ظلم ڈھائے گئے ان میں سے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بھی ہیں، کافروں نے انہیں اسلام سے پھیرنے کی کوشش کی مگر یہ ثابت قدم رہے۔ انہیں جاہلیت کے زمانے میں گرفتار کیا گیا تھا، پھر انہیں ایک عورت ام انمار نے خرید لیا یہ ایک لوہار تھی۔ نبی ﷺ ان کی دلجوئی فرماتے تھے، ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، جب یہ مسلمان ہو گئے اور ام انمار کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے انہیں بہت خطرناک سزائیں دیں۔ وہ لوہے کا کڑا لے کر آگ میں گرم کرتی، پھر اس کو حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے سر پہ رکھ دیتی، آخر حضرت خباب نے آپ ﷺ سے اپنی مصیبت کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا کی۔


https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/10/blog-post.html

https://allahhoakbarofficial.blogspot.com



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کی محبت | قرآن و حدیث اور شیعہ کتب کی روشنی میں

ڈپریشن میں نیند نہ آنا: قرآن، سنت اور ڈاکٹر کا علاج - مکمل رہنمائی 2026

ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور ابرہہ کا عبرتناک انجام