حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ قرآن، حدیث اور شیعہ کتب کی روشنی میں
تعارف - حضرت ابراہیم علیہ السلام کون تھے؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو "ابو الانبیاء" کہتے ہیں۔
مطلب تمام انبیاء کے باپ۔اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو "خلیل اللہ" کا لقب دیا ہے۔
جس کا مطلب ہے اللہ کا دوست۔قرآن کا حوالہ: وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا - سورۃ النساء 4:125حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو کلہاڑی سے توڑ دیا سوائے بڑے بت کے۔قرآن کا حوالہ: سورۃ الانبیاء 21:51-67حق کے لیے پوری قوم کے خلاف کھڑے ہو جانا یہی اصل توحید ہے۔
جو شہد سے زیادہ میٹھی ہے اور اس کی مٹھاس وہی محسوس کرتے ہیں جن کے دل میں اللہ کا ڈر اور توحید ہو۔
پیدائش - حضرت ابراہیم علیہ السلام کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
حضرت نوح علیہ السلام کے بعد تقریباً 2000 سال بعد بابل کے قریب "کوتھا" شہر عراق۔"آزر" جو بت تراش تھا، وہ نمرود کے دربار کا سب سے بڑا بت بنانے والا تھا۔اس وقت نمرود کو کاہنوں نے بتایا تھا کہ بنی ابراہیم میں ایک بچہ پیدا ہو گا
جو تیری حکومت ختم کر دے گا۔اس لیے نمرود نے حکم دیا اس سال جتنے بچے پیدا ہوں سب کو ختم کر دو۔اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے انہیں چھپا کر ایک گھر میں جنم دیا۔فرشتے ان کی پرورش کرتے رہے۔ 15 دن میں وہ 15 سال جیسے جوان کی شکل میں ہو گئے۔حوالہ: بحار الانوار، جلد 12، صفحہ 17
جوانی - بتوں کے خلاف بغاوت
جب وہ بڑے ہوئے تو انہوں نے دیکھا ان کی والدہ اور والد بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔انہوں نے سوچا یہ سورج چاند کچھ نہیں کر سکتے میرا رب تو وہ ہے جس نے انہیں بنایا۔قرآن: ہم نے اس کائنات کو 6 دنوں میں پیدا کیا۔ایک دن ساری قوم میلہ منانے گئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام مندر گئے سارے چھوٹے بتوں کو توڑ دیا اور کلہاڑی بڑے بت کے پاس رکھ دی۔جب قوم واپس آئی اپنے بتوں کو ٹوٹا ہوا پایا تو وہ غصے سے پاگل ہو گئے۔قرآن: سورۃ الانبیاء 21:58-67پوری قوم کو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر شک ہو گیا۔ سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پکڑا اور کہا یہ سب تم نے کیا ہے۔
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا یہ سب بڑے بت نے کیا ہے۔
قوم نے کہا وہ تو ہل نہیں سکتا۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا جو اپنی مرضی سے ہل نہیں سکتا، کھا نہیں سکتا وہ کیسے تمہارا خدا
ہو سکتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی حفاظت تک نہیں کر سکتا۔
آگ کا واقعہ - "حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"
نمرود نے فیصلہ سنایا اس کو آگ میں جلا دو۔اتنی بڑی آگ جلائی گئی کہ پرندے بھی اوپر سے نہیں گزر سکتے تھے۔ ایک میدان میں لکڑیاں اکٹھی کی گئیں اور پورے میدان میں آگ لگا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جھولے میں بٹھا دیا۔فرشتے جبرائیل علیہ السلام آئے کوئی مدد چاہیے؟
ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا مجھے اللہ کافی ہے۔ کیا توحید ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہمیں سبق ملتا ہے مخلوق سے مدد مانگنا شرک ہے۔
جیسے زمین آسمان برابر نہیں ہو سکتے ویسے مشرک اور توحید والے کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔
دنیا میں ایک انسان اگر دوسرے انسان کی مدد کرتا ہے تو وہ نیکی ہے جس کا حکم قرآن نے دیا ہے نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔
اور جو دنیا سے چلا جائے نبی ہو ولی ہو کوئی بھی ہو اس سے یقین رکھنا کہ یہ ہماری مدد کرے گا شرک ہے۔ (اللہ اکبر)اللہ نے آگ کو حکم دیا ابراہیم پر ٹھنڈی ہو جا۔
آگ ابراہیم پر ٹھنڈی ہو گئی گلزار ہو گئی۔ اور اتنا سکون اللہ کے نبی کو پہلے کبھی نہیں ملا جتنا آگ میں ملا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام 7 دن آگ میں رہے جب نکالا گیا تو جسم کا ایک بال بھی نہیں جلا تھا آگ گلاب کا پھول بن گئی۔حوالہ: صحیح بخاری، تفسیر ابن کثیرشیعہ کتب: بحار الانوار جلد 12 میں ہے کہ اس وقت اللہ نے انہیں "خلیل اللہ" کا مرتبہ دیا۔خلیل اللہ کا مطلب اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ اصل میں جو توحید کی دعوت دے اللہ پر یقین رکھے وہی خلیل اللہ ہے۔
یہ لقب اللہ نے مومنوں کو بھی دیا ہے کہ اللہ کے نیک بندے ہمارے دوست ہیں۔ اور دوست وہ جو مصیبت میں کام آیا۔ (اللہ اکبر)
ہجرت اور 2 بیٹے
ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم چھوڑ دی اور اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ پہلے شام، پھر مصر، پھر فلسطین۔بیوی: حضرت سارہ علیہ السلام - لیکن اولاد نہیں تھیدوسری بیوی: حضرت ہاجرہ علیہ السلام - ان سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئےبڑھاپے میں اللہ نے حضرت اسحاق علیہ السلام بھی عطا کیے حضرت سارہ سے۔نمرود نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا تو ہمیں کس خدا سے ڈراتا ہے اگر تو سچا ہے تو ہم تیرے خدا کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں۔اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جنگ قبول کر لی۔ نمرود نے 3 دن کا وقت مانگا کہ وہ اپنی فوج تیار کر سکے۔ نمرود نے پورا لشکر تیار کیا بڑے بڑے سپاہی بلوائے۔اللہ نے آسمان سے مچھروں کی فوج بھیجی جو نمرود کے پورے لشکر کو برباد کر دیا۔نمرود گھر میں چھپ گیا ایک لنگڑا مچھر اس کے حجرے میں داخل ہوا۔نمرود نے اپنی بیوی سے کہا اسی مخلوق نے ہمیں برباد کیا۔ وہ مچھر نمرود کے دماغ میں داخل ہو گیا۔نمرود کے دماغ میں درد ہوتی تو اپنے سپاہیوں سے کہتا مجھے جوتے مارو۔ اصل میں وہ مچھر کی حرکت سے دماغ درد کرتا۔ جب بیٹھ جاتا تو جوتے روک لیتا۔ایک حقیر مچھر نے نمرود کو عبرت کا نشان بنا دیا۔ ہمیں اللہ کی کسی بھی مخلوق کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ (اللہ اکبر)
سب سے بڑی آزمائش - بیٹے کی قربانی
90 سال تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر کوئی اولاد نہیں۔ 90 سال کے بعد اللہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا کیے۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام 12 سال کے ہوئے اللہ نے خواب دکھایا اور بیٹے کی قربانی مانگی۔ یہ خواب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بار آیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے سے کہا میں تجھے اللہ کی راہ میں قربان کرنا چاہتا ہوں۔
تو بیٹا فوراً مان گیا قربانی کے لیے تیار ہو گیا۔بیٹے کو زمین پر لٹایا اور چھری تیز کی۔ بیٹے نے کہا ابا جان میری آنکھوں پر پٹی باندھ لیں یہی نہ ہو بیٹے کی محبت اللہ کی محبت پر غالب آ جائے اور آپ کے ہاتھ کانپ جائیں۔شیطان حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ عمل کرنے سے روک رہا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کو پتھر مارے۔ اسی لیے حج کے دوران شیطان کو پتھر مار کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا ایک پل اللہ نے ہمیشہ زندہ رکھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھری چلا دی۔ جب آنکھ کھلی تو ایک دمبا گود میں تھا اور اسماعیل علیہ السلام دور کھڑے مسکرا رہے تھے۔اللہ نے آسمان سے ندا دی بیشک ابراہیم نے خواب سچ کر دکھایا۔اللہ نے فرمایا جب بھی اس کے رب نے ابراہیم کو آزمایا وہ کامیاب ہوئے۔سلام ہو ابراہیم پر اور اس کی اولاد پر۔ اور یہ سلام جسے ہم درود شریف کہتے ہیں مسلم ہر نماز میں 5 بار حضرت ابراہیم اور اس کی نسل پر بھیجا جاتا ہے۔
قربانی کی آزمائش کیوں؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام ہمیشہ اللہ کو یاد کرتے۔ لیکن بیٹے کی پیدائش کے بعد ابراہیم کے دل میں بیٹے کے لیے بھی محبت پیدا ہوئی۔
امتحان لیا گیا ابراہیم بیٹے سے زیادہ محبت کرتا ہے یا مجھ سے۔یہی قربانی حضرت یعقوب علیہ السلام سے لی گئی۔ کیونکہ دل میں یوسف ہی یوسف کرنے لگے۔
یوسف کو اللہ نے دور کر دیا پھر یوسف کے بعد دل میں بنیامین آ گیا۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے دونوں اسماعیل کو جب اللہ کی راہ پر قربان کیا تو اللہ نے دونوں بیٹے واپس کر دیے۔ (اللہ اکبر)
کعبہ کی تعمیر
اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام نے مل کر کعبہ کی بنیاد رکھی۔وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ - سورۃ البقرہ 2:127پھر اللہ نے حکم دیا کہ لوگوں کو حج کی اذان دو۔
آپ سے گزارش
اگر یہ واقعہ پسند آیا تو:1. کمنٹ میں "اللہ اکبر" لکھیں2. بلاگ کو فالو کر لیں تاکہ نئے انبیاء کے واقعات ملتے رہیں3. اس پوسٹ کو واٹس ایپ اور فیس بک پر شیئر کریں
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-musa-as-aur-firaun-ka-waqia-9.html
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-ibrahim-as-ka-waqia-quran-hadees.html
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں