ولادت کے بعد اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ستارہ کیسے چمکایا

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


 محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ملک شام کا ایک یہودی عیس جو مکہ سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا۔ وہ جب بھی مکہ آتا وہاں کے لوگوں سے ملتا تو ان سے کہتا،

"بہت قریب کے زمانے میں تمہارے درمیان ایک بچہ پیدا ہوگا، سارا عرب اس کے راستے پر چلے گا۔ اس کے سامنے ذلیل اور پست ہو جائے گا۔ وہ عجم اور اس کے شہروں کا بھی مالک ہو جائے گا۔ یہی اس کا زمانہ ہے جو اس کی نبوت کو پائے گا، اس کی پیروی کرے گا۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا، جس خیر اور بھلائی کی امید وہ کرتا ہے۔ وہ اس کو حاصل ہوگے۔ اور شخص اس کی نبوت کا زمانہ پائے گا، مگر اس کی مخالفت کرے گا، وہ اپنے مقصد اور آرزوؤں میں ناکام ہوگا"

https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/09/wiladat-e-mustafa-aur-abraha-ka-ibratnak-anjam.html

مکہ میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا، وہ یہودی اس بچے کے بارے میں تصدیق کرتا اور کہتا، ابھی وہ بچہ پیدا نہیں ہوا۔ آخر جب آپ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے، تو عبدالمطلب گھر سے نکل کر اس یہودی کے پاس پہنچے۔ اس کی عبادت گاہ کے دروازے پر پہنچ کر انہوں نے آواز دی۔ عیس نے پوچھا:

"کون ہے"

"انہوں نے اپنا نام بتایا۔ پھر اس سے پوچھا"

تم اس بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

اس نے انہیں دیکھا اور بولا:

ہاں! تم اس کے باپ ہوسکتے ہو۔ بے شک وہ بچہ پیدا ہوگیا ہے جس کے بارے میں میں نے تم لوگوں سے کہا کرتا تھا۔ وہ ستارہ آج طلوع ہوگیا ہے۔ جو بچے کی پیدائش کی علامت ہے۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت اس بچے کو درد ہورہا ہے، یہ تکلیف اسے 3 دن رہے گی، اور اس کے بعد یہ ٹھیک ہوجائے گا"

میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں

راہب نے جو کہا تھا کہ بچہ 3 دن تکلیف میں رہے گا اس کی تفصیل یہ ہے۔ کہ آپ نے 3 دن تک دودھ نہیں پیا تھا اور یہودی نے جو یہ کہا تھا کہ ہاں! آپ اس کے باپ ہوسکتے ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ عربوں میں دادا کو بھی باپ کہا جاتا تھا۔ اور نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا "میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں"

"اس بارے میں اپنی زبان بند رکھیں۔ یعنی کسی کو کچھ نہ بتائیں۔ ورنہ لوگ اس بچے سے زبردست حسد کریں گے۔ اتنا حسد کہ آج تک کسی نے نہیں کیا، اور اس کی اتنی سخت مخالفت ہوگی کہ دنیا میں اور کسی کی مخالفت نہیں ہوئی۔ پوتے کے متعلق یہ باتیں سن کر عبدالمطلب نے عیس سے پوچھا:

جس رات آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی

"اس بچے کی عمر کتنی ہوگی"

"اگر اس بچے کی عمر طبعی ہوئی تو بھی 70 سال تک نہیں ہوگی۔ بلکہ اس سے پہلے 61 یا 63 سال کی عمر میں وفات ہوجائے گی، اور اس کی امت کی اوسط عمر بھی اتنی ہوگی، اس کی پیدائش کے وقت دنیا کے بہت بت گر جائیں گے" یہ ساری معلومات یہودی نے گزشتہ انبیاء کی پیش گوئی سے کی تھی اور سب بالکل سچ ثابت ہوئیں۔ قریش کے کچھ لوگ عمرو بن نفیل اور عبداللہ بن حبیش ایک بت کے پاس جایا کرتے تھے۔ یہ اس رات بھی اس کے پاس گئے تھے، جس رات آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔ انہوں نے دیکھا وہ بت اوندھے منہ گرا پڑا ہے۔ ان لوگوں کو یہ بات بری لگی، انہوں نے اسے اٹھایا، سیدھا کر دیا، مگر وہ پھر گر گیا۔ انہوں نے پھر اس کو سیدھا کیا، وہ پھر الٹا ہوگیا۔ ان لوگوں کو بہت حیرت ہوئی، یہ بات بہت عجیب لگی، تبھی اس بت سے آواز نکلی،

"یہ ایک ایسے بچے کی پیدائش کی خبر ہے، جس کے نور سے مشرق اور مغرب کی زمین کے تمام گوشے روشن ہو گئےہوگئے ہیں"

بت سے نکلنے والی آواز نے انہیں اور زیادہ حیرت میں ڈال دیا، اس کے علاوہ ایک اور واقعہ پیش آیا کہ ایران کے شہنشاہ کسریٰ کا محل ہلنے لگا اور اس میں شگاف پڑ گئے۔ نوشیرواں کا یہ محل نہایت مضبوط تھا۔ بڑے بڑے پتھروں اور چونے سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس واقعہ سے پوری سلطنت میں دہشت پھیل گئی، شگاف پڑنے سے خوفناک آواز بھی نکلی تھی۔ محل کے 14 کنگرے ٹوٹ کر نیچے آ گرے تھے۔

 آتش پرستوں کی آگ

آپ ﷺ کی پیدائش پر ایک واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ فارس کے تمام کدوں کی وہ آگ بجھ گئی جس کی وہ لوگ پوجا کرتے تھے، اور اس کو بجھنے نہیں دیتے تھے، لیکن اس رات تمام آتش پرستوں کی آگ بجھ گئی۔ آگ کے پجاریوں میں صف ماتم بچھ گیا۔

کسریٰ کو یہ تمام اطلاعات ملی اس نے ایک کاہن کو بلایا اس نے یہ اپنے محل میں شگاف پڑنے، اور آتش پرستوں کی آگ کے بجھنے کی وجہ پوچھی۔ "آخر ایسا کیوں ہورہا ہے" وہ کاہن خود جواب نہ دے سکا لیکن اس نے کہا اس سوال کا جواب میرا ماموں دے سکتا ہے "اس کا نام سطیح ہے" نوشیرواں نے کہا ٹھیک ہے تم جا کر ان سوالات کے جواب لے کر آؤ۔

وہ گیا سطیح سے ملا اسے واقعات سنائے اس نے واقعہ سن کر کہا: "ایک عصا والے نبی پیدا ہوں گے جو عرب اور شام پر چھا جائیں گے اور جو کچھ ہونے والا ہے ہو کر رہے گا"

اس نے یہ جواب کسریٰ کو بتایا، اس وقت کسریٰ نے دوسرے کاہنوں سے بھی معلومات حاصل کرلی تھی، مطلب ابھی وہ وقت آنے میں دیر ہے (یعنی اس کا غلبہ میرے بعد ہوگا)

MUHAMMAD S.A.W

پیدائش کے ساتویں دن عبدالمطلب نے آپ کا عقیقہ کیا اور نام محمد ﷺ رکھا۔ عربوں میں اس سے پہلے یہ نام کسی کا نہیں رکھا گیا۔ قریش کو یہ نام عجیب تر لگا، کچھ لوگوں نے عبدالمطلب سے کہا "اے عبدالمطلب کیا وجہ ہے کہ تم نے اس بچے کا نام اس کے باپ دادا کے نام پر نہیں رکھا بلکہ محمد رکھا" یہ نام نہ تمہارے باپ دادا میں سے کسی کا ہے نہ تمہاری قوم میں سے کسی کا ہے۔

عبدالمطلب نے کہا "میری خواہش ہے کہ محمد ﷺ کی آسمان اور زمین میں تعریف ہو" لوگ اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

اس طرح والدہ کی طرف سے آپ کا نام احمد رکھا گیا۔ احمد نام بھی اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا، ان دونوں ناموں کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی، اور کوئی بھی یہ نام نہ رکھ سکا۔ احمد کا مطلب ہے سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔ علماء نے لکھا ہے آپ احمد پہلے ہیں محمد بعد میں ہیں۔

آپ ﷺ کا نام احمد

آپ ﷺ کا نام احمد 

پرانی کتابوں میں آپ ﷺ کا نام احمد ذکر کیا گیا ہے۔ اپنی والدہ کے بعد آپ ﷺ نے سب سے پہلے ثوبیہ کا دودھ پیا، ثوبیہ نبی کریم ﷺ کے چچا ابولہب کی باندی تھیں، ان کو ابولہب نے آپ کی پیدائش کی خوشی میں آزاد کردیا تھا۔ ثوبیہ نے آپ کو چند دن تک دودھ پلایا، انہی دنوں ثوبیہ کے ہاں اپنا بیٹا پیدا ہوا تھا۔ آپ کی والدہ نے صرف آپ ﷺ کو 9 دن تک دودھ پلایا۔ ان کے بعد ثوبیہ نے پلایا۔ پھر دودھ پلانے کی باری حضرت حلیمہ سعدیہ کی طرف آئی۔

حضرت حلیمہ سعدیہ اپنی بستی سے روانہ ہوئیں۔ ان کے ساتھ ان کا دودھ پیتا بچہ اور شوہر بھی تھے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ دوسری عورتوں کے بعد مکہ میں داخل ہوئیں۔ ان کا خچر بہت بہت کمزور اور بیمار تھا۔ ان کے ساتھ ان کی کمزور بوڑھی اونٹنی بھی تھی، ان کی وجہ سے حلیمہ قافلہ سے بہت دور رہ جاتی تھیں۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا وہ سب سے آخر مکہ میں داخل ہوئیں۔

حلیمہ سعدیہ کی گود

اس زمانے میں عرب میں دستور یہ تھا کہ جب ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو وہ دیہات سے آنے والی دائیوں کے حوالے کردیتے تھے تاکہ دیہات میں بچے کی نشوونما بہتر ہو اور وہ خالص عربی زبان سیکھ سکے۔

دائیوں کا قافلہ مکہ میں داخل ہوا۔ انہوں نے ان گھروں کی تلاش شروع کی جن میں بچے پیدا ہوئے تھے۔ اس طرح بہت سی دائیاں جناب عبدالمطلب کے گھر آئیں۔ نبی کریم ﷺ کو دیکھا، جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ بچہ تو یتیم پیدا ہوا ہے تو اس خیال سے چھوڑ کر آگے بڑھ گئیں کہ یتیم بچے کے گھرانے سے انہیں کیا ملے گا۔

اسی طرح دائیاں آتی گئیں اور جاتی گئیں کسی نے آپ ﷺ کو دودھ پلانا منظور نہ کیا اور کرتیں بھی کیسے؟ یہ سعادت تو حضرت حلیمہ کے حصہ میں آنی تھی، جب حلیمہ مکہ پہنچی تو انہیں معلوم ہوا کہ ہر دائی کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا ہے، اب وہ بغیر بچے کے رہ گئی ہیں، اور اب کوئی بچہ باقی نہیں بچا، ہاں ایک یتیم بچہ اور باقی ہے، جسے دوسری عورتیں چھوڑ گئی ہیں۔

حلیمہ سعدیہ نے اپنے شوہر عبداللہ ابن حارث سے کہا:

خدا کی قسم مجھے یہ بات بہت ناگوار گزر رہی ہے، کہ میں بچے کے بغیر جاؤں دوسری سب عورتیں بچہ لے کر جائیں، یہ مجھے طعنے دیں گی کیوں نہ ہم اس یتیم بچے کو لے لیں...

حلیمہ سعدیہ کی گود

عبداللہ بن حارث بولے: "کوئی حرج نہیں ہوسکتا ہے، اللہ اس بچے کے ذریعے ہمیں خیر اور برکت عطا فرمائے" حضرت حلیمہ سعدیہ عبدالمطلب کے گھر گئیں۔ جناب عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے انہیں خوش آمدید کہا۔ پھر آمنہ انہیں بچے کے پاس لے آئیں۔ آپ اس وقت ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے، وہ چادر سفید رنگ کی تھی، آپ کے نیچے سبز رنگ کا ایک ریشمی کپڑا تھا۔ آپ سیدھا لیٹے ہوئے تھے، آپ کی سانس سے مشک کی خوشبو نکل کر پھیل رہی تھی۔

حلیمہ سعدیہ آپ کا حسن و جمال دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں، آپ اس وقت سو رہے تھے، انہوں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔ لیکن جوں ہی انہوں نے اپنا ہاتھ آپ کے سینہ پر رکھا آپ مسکرا دیئے اور آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں "آپ کی آنکھ سے ایک نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا، میں نے آپ کو گود میں اٹھا کر آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیار کیا، پھر میں نے آپ کی والدہ اور عبدالمطلب سے اجازت مانگی، اور بچے کو لے کر قافلہ میں آئیں۔ میں نے آپ ﷺ کو دودھ پلانے کے لیے اٹھایا آپ دائیں جانب سے دودھ پینے لگے،...

بعد میں آپ کی یہی عادت رہی آپ صرف دائیں جانب سے دودھ پیتے تھے، پھر قافلہ روانہ ہوا، اب ہمارا خچر چلا اس قدر تیز چلا کہ سب کو پیچھے چھوڑ دیا، سب حیران ہوئے آیا حلیمہ یہ آج کیا ہورہا ہے، کیا یہ وہی خچر ہے جس پر تم آئی تھی۔ جس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا مشکل تھا۔ جواب میں انہوں نے کہا یہ وہی خچر ہے، "اللہ کی قسم اس کا معاملہ عجیب ہے"

اس طرح آپ ﷺ کی پرورش حلیمہ سعدیہ نے کی مزید اس واقعہ کی تفصیل آپ کی خدمت میں پیش کی جائے گی یہ ایک دینی پیغام ہے، اللہ نے ہمیں ایسے نبی کی امت سے نوازا ہے، جس نبی کا کوئی ثانی نہیں، مزید معلومات پڑھنے کے لیے آپ ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔

https://allahhoakbarofficial.blogspot.com

https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/09/wiladat-ke-bad-muhammad-saw-ka-sitara-kaise-chamka.html

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کی محبت | قرآن و حدیث اور شیعہ کتب کی روشنی میں

ڈپریشن میں نیند نہ آنا: قرآن، سنت اور ڈاکٹر کا علاج - مکمل رہنمائی 2026

ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور ابرہہ کا عبرتناک انجام