حضرت عبدالمطلبؓ اور کنواں زمزم کا واقعہ - قربانی کی عظیم داستان
حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام
حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کے 12 بیٹے تھے۔ ان کی نسل میں اتنی استعداد ہوئی کہ مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی، اور پورے حجاز میں پھیل گئی۔ ان کے ایک بیٹے قیدارؑ کی اولاد میں عدنانؑ ہوئے۔ عدنانؑ کے بیٹے معدؑ اور پوتے کا نام نزارؑ تھا۔ نزارؑ کے 4 بیٹے تھے اور پوتے کا نام مضرؑ تھا۔ مضرؑ کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے۔ یہ فہر بن مالکؑ بھی کہلائے۔ قریش کی اولاد بہت ہوئی۔ ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی۔ ان کی اولاد میں سے قصیؑ نے اقتدار حاصل کیا۔ قصیؑ کے آگے 3 بیٹے ہوئے۔ ان میں سے ایک عبد منافؑ تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشمؑ پیدا ہوئے۔
ہاشمؑ نے مدینہ کی ایک سردار لڑکی سے شادی کی۔ ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام شیبہ رکھا گیا۔ یہ ابھی پیدا ہی ہوا تھا کہ ہاشمؑ کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بھائی مطلبؑ مکہ کے حاکم ہوئے۔
ہاشمؑ کا بیٹا مدینہ منورہ میں پرورش پاتا رہا۔ جب مطلبؑ کو معلوم ہوا کہ وہ جوان ہو گیا ہے تو بھتیجے کو لینے کے لیے خود مدینہ گئے۔ ان کو لے کر جب مکہ گئے تو لوگوں نے خیال کیا کہ یہ ان کا غلام ہے۔ مطلبؑ نے لوگوں کو بتایا کہ یہ ہاشمؑ کا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے۔ اس کے باوجود لوگوں نے اسے مطلبؑ کا غلام ہی کہنا شروع کر دیا۔ اس طرح شیبہ کو "عبدالمطلب" کہا جانے لگا۔انہی عبدالمطلبؑ کے ہاں ابو طالب، حمزہ، عباس، عبداللہ، ابو لہب، حارث، زبیر، ضرار اور عبدالرحمن پیدا ہوئے۔ ان کے بیٹے عبداللہؓ سے ہمارے نبی کریم ﷺ پیدا ہوئے۔
عبداللہؓ سب سے زیادہ خوبصورت
عبدالمطلبؓ کے تمام بیٹوں میں عبداللہؓ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ پاک دامن تھے۔عبدالمطلبؓ کو خواب میں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا گیا۔ یعنی حضرت اسماعیلؑ کا وہی کنواں جسے قریش نے بند کر دیا تھا اور جسے قبیلہ جرہم کے سردار "مضاض" نے پاٹ دیا تھا۔
قبیلہ جرہم کے لوگ اس زمانے میں مکہ کے سردار تھے۔ وہ بیت اللہ کے نگران تھے۔ انہوں نے بیت اللہ کی بے حرمتی شروع کر دی۔ ان کے سردار "مضاض بن عمرو" تھے۔ وہ اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ بیت اللہ کی بے حرمتی نہ کرو مگر ان پر اثر نہ ہوا۔تو قوم کو اس حال میں چھوڑ کر وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے تمام مال و دولت، تلواریں اور زرہیں وغیرہ خانہ کعبہ سے نکال کر زمزم کے کنویں میں ڈال دیں اور مٹی سے اسے پاٹ دیا۔ کنواں اس سے پہلے ہی خشک ہو چکا تھا۔ اب اس کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔مدتوں یہ کنواں بند پڑا رہا۔ اس کے بعد بنو خزاعہ نے بنو جرہم کو وہاں سے مار بھگایا۔ بنو خزاعہ اور قصیؑ کی سرداری کا زمانہ اسی حالت میں گزرا۔ کنواں بند رہا یہاں تک کہ قصیؑ کے بعد عبدالمطلبؓ کا زمانہ آ گیا۔
انہوں نے خواب دیکھا۔ خواب میں انہیں زمزم کے کنویں کی جگہ دکھائی گئی اور اسے کھودنے کا حکم دیا گیا۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ عبدالمطلبؓ نے بتایا: "میں حجر اسود کے مقام پر سو رہا تھا کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا۔ اس نے مجھے کہا: 'طیبہ کو کھودو'۔
میں نے اس سے پوچھا: 'طیبہ کیا ہے؟'"
کنواں کھودنے کا حکم
مگر وہ کچھ بتائے بغیر چلا گیا۔دوسری رات پھر وہی خواب میں وہی شخص آیا اور کہنے لگا: "برّہ کو کھودو"۔ میں نے پوچھا "برّہ کیا ہے؟" وہ کچھ بتائے بغیر چلا گیا۔تیسری رات میں اپنے بستر پر سو رہا تھا کہ پھر وہ شخص خواب میں آیا۔ اس نے کہا "المضنونہ کو کھودو"۔ میں نے پوچھا "المضنونہ کیا ہے؟" وہ بتائے بغیر چلا گیا۔
اگلی رات میں بستر پر سو رہا تھا کہ پھر وہی شخص خواب میں آیا اور بولا: "زمزم کو کھودو"۔
میں نے اس سے پوچھا: "زمزم کیا ہے؟"
اس بار اس نے کہا: "زمزم وہ ہے جس کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا، جو حاجیوں کے بڑے بڑے مجمعوں کو سیراب کرتا ہے۔"
عبدالمطلبؓ کہتے ہیں: میں نے اس سے پوچھا "یہ کنواں کس جگہ ہے؟"
اس نے بتایا: "جہاں گندگی اور خون پڑا ہوا ہے، اور کوا چونچیں مار رہا ہے"۔دوسرے دن عبدالمطلبؓ اپنے بیٹے حارثؓ کے ساتھ وہاں گئے۔ اس وقت ان کے ہاں یہی ایک لڑکا تھا۔ انہوں نے دیکھا وہاں گندگی اور خون پڑا ہوا ہے اور کوا چونچیں مار رہا ہے۔اس جگہ دونوں طرف بت موجود تھے۔ یہ گندگی اور خون ان بتوں کو قربانی کرنے کی وجہ سے پڑا ہوا تھا۔
*_پوری نشانی مل گئی تو عبدالمطلبؓ کھدائی کے لیے تیار ہو گئے۔ لیکن اس وقت قریش وہاں آ پہنچے۔ انہوں نے کہا:
"اللہ کی قسم ہم تمہیں یہاں کھدائی نہیں کرنے دیں گے۔ تم ہمارے ان دونوں بتوں کے درمیان کنواں کھودنا چاہتے ہو جہاں ہم ان کے لیے قربانیاں کرتے ہیں۔"____عبدالمطلبؓ نے ان کی بات سن کر اپنے بیٹے حارثؓ سے کہا:
"تم ان لوگوں کو قریب نہ آنے دو۔ میں کھدائی کا کام کرتا رہوں گا۔ اس لیے مجھے جس کام کا حکم دیا گیا ہے میں اسے ضرور پورا کروں گا۔"_*
قریش نے جب دیکھا کہ وہ باز آنے والے نہیں تو رک گئے۔ آخر انہوں نے خود ہی شروع کر دی۔ جلد ہی کنویں کے آثار نظر آنے لگے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے "اللہ اکبر" کا نعرہ لگایا اور پکار اٹھے: "یہ دیکھو! یہ اسماعیلؑ کی تعمیر ہے۔"
کنواں تلاش
جب قریش نے دیکھا کہ انہوں نے کنواں تلاش کر لیا ہے، ان کے پاس آگے اور کہنے لگے عبدالمطلب اللہ کی قسم یہ ہمارے باپ اسماعیل کا کنواں ہے، اور اس پر ہمارا بھی حق ہے، اس لیے اس میں ہم تمہارے شریک ہوں گے " یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا ...
"میں تمہیں اس میں شریک نہیں کر سکتا یہ مجھ اکیلے کا کام ہے ۔ اس پر قریش نے کہا " تب پھر اس معاملے میں ہم تم سے جھگڑا کریں گے ۔
عبدالمطلب بولے " کسی سے فیصلہ کروا لو "
انہوں نے بنو سعد ابنی ہزیم کی کہیں سے فیصلہ کروانا منظور کیا ۔ یہ کہیں ملک شام کے بالائی علاقے میں رہتی تھی ۔ آخر عبدالمطلب اور دوسرے قریش اس کی طرف روانہ ہوئے ۔
عبدالمطلب کے ساتھ عبد مناف کے لوگوں کی ایک جماعت تھی ۔ جب کہ دیگر قبائل قریش کی بھی ایک جماعت ساتھ تھی ، اس زمانے میں ملک حجاز اور شام کے درمیان ایک بیابان میدان تھا ، وہاں کہیں پانی نہیں تھا ۔ اس میدان میں ان کا پانی ختم ہو گیا تھا ، سب لوگ پیاس سے بے حال ہو گئے ، یہاں تک کہ انہیں اپنی موت کا یقین ہو گیا ۔ انہوں نے قریش کے دوسرے لوگوں سے پانی مانگا لیکن انہوں نے پانی دینے سے انکار کر دیا ۔
پانی کا چشمہ
اب انہوں نے ادھر ادھر پانی تلاش کرنے کا ارادہ کیا ۔ عبدالمطلب اٹھ کر اپنی سواری کے پاس آیا جونہی ان کی سواری اٹھی ، اس کے پاؤں کے نیچے سے پانی کا چشمہ ابل پڑا ۔ انہوں نے پانی دیکھ کر اللہ ہو اکبر کا نعرہ لگایا ۔ پھر عبدالمطلب سواری سے اترے پھر سب نے خوب سیر ہو کر پانی پیا ، اور اپنے مشکیزے بھر لیے ۔ پھر انہوں نے قریش کی دوسری جماعت سے کہا آؤ تم بھی خوب سیر ہو کر پانی پی لو ، پانی پینے کے بعد وہ بولے ..,...
اللہ کی قسم اے عبدالمطلب ، یہ تو تمہارے حق میں فیصلہ ہو گیا ۔ اب ہم زم زم کے بارے میں تم سے کبھی بھی جھگڑا نہیں کریں گے ، جس ذات نے تمہیں اس بیابان میں سیراب کر دیا ، وہی ذات تمہیں زم زم سے بھی سیراب کرے گا ، اس لیے یہیں سے واپس چلو ۔
اس طرح قریش نے جان لیا کہ اللہ عبدالمطلب پر مہربان ہے ، لہذا ان سے جھگڑنا کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، اور کہیں کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ چنانچہ سب لوگ واپس لوٹے ۔ واپس آ کر عبدالمطلب نے پھر کنویں کی کھدائی شروع کی ۔ ابھی تھوڑی ہی کھدائی کی تھی کہ مال دولت تلواریں نکل آئیں ۔ اس میں سونا اور چاندی وغیرہ بھی تھے ۔ یہ مال دولت دیکھ کر قریش کے لوگوں کو لالچ نے آ گھیرا ...
انہوں نے عبدالمطلب سے کہا اے عبدالمطلب اس میں ہمارا بھی حصہ ہے ، عبدالمطلب نے یہ بات سن کر کہا نہیں ان میں سے تمہارا کوئی حصہ نہیں ، تمہیں انصاف کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ، آؤ پانسوں کے تیروں سے قرعہ ڈالیں ، انہوں نے ایسا کرنا منظور کر لیا ، دو تیر کعبہ کے نام سے رکھے گئے ، 2 عبدالمطلب کے اور 2 قریش کے باقی لوگوں کے نام سے پانسہ پھینکا گیا ، تو مال اور دولت اور کعبہ کا نام نکلا ...تلواریں عبدالمطلب کے نام اور قریشیوں کے نام سے جو تیر پھینکے گئے وہ کسی چیز پر نہ نکلے ۔ اس طرح فیصلہ ہو گیا ۔ عبدالمطلب نے کعبہ کی دروازوں کو سونے سے سجا دیا ۔
زم زم کی کھدائی سے پہلے عبدالمطلب نے دعا مانگی تھی ، کہ اے اللہ اس کی کھدائی کو مجھ پر آسان کر دے ، میں اپنا ایک بیٹا تیری راہ میں ذبح کروں گا ۔ اب جب کنواں نکل آیا تو انہیں خواب میں حکم دیا گیا
" اپنی منت پوری کرو ۔ یعنی 1 بیٹے کو ذبح کرو "
100 اونٹوں کی قربانی
عبدالمطلب کو یہ حکم اس وقت دیا گیا جب وہ اپنی منت بھول چکے تھے ۔ پہلے خواب میں ان سے کہا گیا منت پوری کرو ۔ انہوں نے ایک مینڈھا ذبح کر کے غریبوں کو کھلایا ، "پھر خواب آیا " اس سے بڑی پیش کرو اس دفعہ انہوں نے ایک بیل ذبح کیا ۔ خواب میں پھر کہا گیا اس سے بھی بڑی قربانی پیش کرو ، پھر انہوں نے اونٹ ذبح کیا "پھر کہا گیا اس سے بھی بڑی پیش کرو انہوں نے کہا اس سے بڑی کیا پیش کروں ، تب کہا گیا اپنے بیٹے میں سے کسی کو ذبح کرو جیسا کہ تم نے منت مانگی تھی ۔
اب انہیں اپنی منت یاد آئی ۔ اپنے بیٹوں کو جمع کیا ۔ ان سے منت کا ذکر کیا ۔ سب کے سر جھک گئے ۔ کون خود کو ذبح کرواتا " آخر عبداللہ بولے " ابا جان آپ مجھے ذبح کر دیں " یہ سب سے چھوٹے تھے سب سے خوبصورت تھے ۔ سب سے زیادہ محبت بھی عبدالمطلب کو ان سے ہی تھی ۔ لہذا انہوں نے قرعہ اندازی کرنے کا ارادہ کیا ۔ تمام بیٹوں کے نام لکھ کر قرعہ ڈالا گیا ، عبداللہ کا نام نکلا اب انہوں نے چھری لی ۔
عبداللہ کو بازو سے پکڑا اور انہیں ذبح کرنے کے لیے نیچے لٹا دیا ۔
جیسے ہی باپ نے بیٹے کو نیچے لٹایا عباس سے ضبط نہ ہو سکا ۔ فوراً آگے بڑھے اور بھائی کو کھینچ لیا " اس وقت یہ خود بھی چھوٹے سے تھے ۔ ادھر باپ نے عبداللہ کو کھینچا اس کھینچا تانی میں عبداللہ کے چہرے پر خراشیں پڑ گئیں ۔ ان خراشوں کے نشانات مرتے دم تک باقی رہے ۔
اس دوران بنو مخزوم کے لوگ آگے انہوں نے کہا ۔ آپ اس طرح بیٹے کو ذبح نہ کریں اس کی ماں کی زندگی خراب ہو جائے گی ، اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے بیٹے کا فدیہ دے دیں ۔
عبداللہ کی پرچی
اب سوال یہ تھا فدیہ کیا دیا جائے ، اس کی ترکیب یہ بتائی گئی کہ ایک کاغذ پر 10 اونٹ لکھے جائیں ، دوسرے پر عبداللہ کا نام لکھا جائے ۔ اگر 10 اونٹ والی پرچی نکلی ، تو 10 اونٹ قربان کر دیں ، اگر عبداللہ کی پرچی نکلی تو 10 اونٹ اور بڑھا دیے جائیں ، جب 20 اونٹ ہو گئے پھر عبداللہ کی پرچی نکل آئی ، ایسے ہی کرتے کرتے جب 100 اونٹ ہو گئے پھر ، اونٹوں والی پرچی نکل آئی لہذا 1 بیٹے کا فدیہ 100 اونٹ ٹھہرا ۔
عبدالمطلب کو پورا یقین ہو گیا ، اللہ نے عبداللہ کے بدلے 100 اونٹوں کی قربانی قبول کر لی انہوں نے کعبہ کے پاس 100 اونٹ قربان کیا اور کسی کو کھانے سے نہ روکا " سب انسانوں جانوروں اور پرندوں نے ان کو کھایا ۔عبدالمطلب پہلے انسان تھے جنہوں نے انسان کی جان کے بدلے 100 اونٹ دینے کا فدیہ دیا ۔ اس سے پہلے 10 اونٹ دیا جاتے تھے ۔
اس کے بعد یہ طریقہ سارے عرب میں جاری ہو گیا ، گویا قانون بن گیا کہ 1 آدمی کا فدیہ 100 اونٹ ہیں ۔ نبی ﷺ کے سامنے جب یہ ذکر آیا ، تو آپ نے اس فدیہ کی تصدیق فرمائی ، یعنی کہ یہ درست ہے ۔
اس دوران آپ ﷺ نے فرمایا میں 2 ذبحوں یعنی اسماعیل اور عبداللہ کی اولاد ہوں ۔ حضرت عبداللہ قریش میں سب سے زیادہ حسین تھے ، ان کا چہرہ روشن ستارے کی مانند تھا قریش کی بہت لڑکیاں ان سے شادی کرنا چاہتی تھیں ۔ مگر حضرت عبداللہ کی حضرت آمنہ سے شادی ہوئی ،
حضرت آمنہ وہب بن عبد مناف بن زہرہ کی بیٹی تھیں شادی کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر 18 سال تھی ۔ یہ شادی کے لیے اپنے والد کے ساتھ جا رہے تھے ، راستے میں ایک عورت کعبہ کے پاس بیٹھی نظر آئی ، یہ عورت ورقہ بن نوفل کی بہن تھی ، ورقہ بن نوفل قریش کے بڑے عالم تھے ۔ ورقہ بن نوفل سے ان کی بہن نے سن رکھا تھا کہ وقت کے آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہے ۔ اور ان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہو گی کہ ان کے والد کے چہرے پر نبوت کا نور چمکے گا ۔
جیسے ہی اس نے عبداللہ کو دیکھا اس کے دل میں یہ بات فوراً آئی ہو نہ ہو یہ وہ شخص ہے جو پیدا ہونے والی نبی کے باپ ہوں گے ۔ چنانچہ اس نے کہا اگر تم مجھ سے شادی کر لو تو بدلے میں میں تمہیں اتنے ہی اونٹ دوں گی جتنے تمہاری جان کے بدلے ذبح کیا گئے تھے ۔
اس پر انہوں نے کہا میں اپنے باپ کے ساتھ ہوں ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا ، نہ ان سے الگ ہو سکتا ہوں اور میرے والد باعزت آدمی ہیں ، اور اپنی قوم کے سردار ہیں ۔ بس آپ کی شادی حضرت فاطمہ سے ہوئی ، آپ قریش کی افضل ترین عورت تھیں۔ حضرت آمنہ حضرت عبداللہ کے گھر آ گئیں ،
نبی کریم ﷺ "دو ذبیحوں کی اولاد" ہیں۔ حضرت اسماعیل اور حضرت عبداللہ کی قربانی کی وجہ سے ہی اللہ نے ہمیں آخری نبی عطا فرمایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی دعا کبھی ضائع نہیں کرتا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں