ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور ابرہہ کا عبرتناک انجام


ولادتِ مصطفیٰ ﷺ

بشارت

اس طرح وہ وقت قابلِ ذکر ہے، جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ "اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ کہ مجھ سے پہلے جو تورات آ چکی ہے، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میں بعد میں آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جن کا نامِ مبارک احمد ہو گا۔"   حضرت عیسیٰؑ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کی بشارت دی  .وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُترجمہ: "اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اس تورات کی جو مجھ سے پہلے ہے، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئیں گے، ان کا نام احمد ہو گا۔" [سورة الصف: 6]  
حضرت عیسیٰؑ نے اپنی قوم کو آخری نبی محمد ﷺ کی خوشخبری دی تھی۔حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں مزید پڑھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی لنک ہے تو بھیج دیں، میں اس کے مطابق خلاصہ بھی بتا دوں گا۔  کیا آپ چاہتے ہیں میں حضرت عیسیٰؑ کے واقعات اور آپ ﷺ کی بشارت کی تفصیل یہیں لکھ دوں؟حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں پڑھنے کے لیے اس ربط کے ذریعے پڑھیے۔

اب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ بشارت سنا چکے تھے، اس لیے ہر دور کے لوگ آپ ﷺ کی ولادت کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ ادھر آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت عبداللہ انتقال کر گئے۔ سب کتابوں میں آپ ﷺ کی نبوت کی ایک نشانی یہ بھی بتائی گئی کہ آپ ﷺ کے والد کا انتقال آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے ہو جائے گا۔ حضرت عبداللہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے گئے تھے۔ اس دوران بیمار ہو گئے، اور کمزور ہو کر واپس لوٹے۔ قافلہ مدینہ منورہ سے گزرا تو حضرت عبداللہ اپنے ننھیال یعنی بنو نجار کے ہاں ٹھہرے۔ ان کی والدہ بنو نجار سے تھیں۔ 1 ماہ تک بیمار رہے اور انتقال کر گئے۔ انہیں یہیں دفن کر دیا گیا۔
تجارتی قافلہ جب عبداللہ کے بغیر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبدالمطلب کو پتہ چلا کہ ان کے بیٹے عبداللہ بیمار ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ اپنے ننھیال میں ہیں، تو ان کو لانے کے لیے عبدالمطلب نے زبیر کو بھیجا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ اس دنیا میں اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد تشریف لائے۔

حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ حضور ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ ﷺ کی نال کٹی ہوئی تھی۔ نال کو بچے پیدا ہونے کے بعد دایہ کاٹتی ہے۔ آپ ﷺ ختنہ شدہ پیدا ہوئے۔ عبدالمطلب یہ دیکھ کر بے حد حیران ہوئے اور خوش بھی۔ وہ کہا کرتے تھے میرا بیٹا نرالی شان کا ہو گا۔

آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے مکہ کے لوگ خشک سالی اور قحط کا شکار تھے۔ لیکن جونہی آپ ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت قریب آیا۔ بارشیں شروع ہو گئیں، خشک سالی دور ہو گئی اور پھولوں سے لد گئیں۔ زمین پر سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگا۔

پیدائش کے وقت آپ ﷺ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے۔ سر آسمان کی طرف تھا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ سجدے کی سی حالت میں تھے۔ آپ ﷺ کی مٹھی بند تھی اور شہادت کی انگلی اٹھی ہوئی تھی۔ جیسا کہ ہم نماز میں اٹھاتے ہیں۔

حضور انور ﷺ فرماتے ہیں۔ "جب میری والدہ نے مجھے جنم دیا تو ان سے ایک نور نکلا۔ اس نور سے شام کے محلات جگمگا اٹھے"۔ آپ ﷺ کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں "محمد ﷺ کی پیدائش کے وقت ظاہر ہونے والے نور کی روشنی میں مجھے بصرہ میں چلنے والے اونٹوں کی گردنیں تک نظر آئیں"۔
علامہ سہیلی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں جب آپ ﷺ پیدا ہوئے تو سب سے پہلے آپ نے توحید بیان کی۔ ایک روایت میں یہ الفاظ آئے "اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا سبحان اللہ بکرۃ واصیلا"۔

اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بے حد تعریف کی ہے اور میں صبح شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں۔

ولادت کا دن ربیع الاول
ولادت کا دن ربیع الاول
آپ ﷺ کی ولادت کس دن ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ پیر کا دن تھا۔ آپ ﷺ صبح فجر طلوع ہونے کے وقت دنیا میں تشریف لائے۔ تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بہت اقوال ہیں۔ ایک روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ ایک روایت 8 ربیع الاول کی ہے۔ ایک روایت 2 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ تقویم کے طریقہ کے حساب سے جب تاریخ نکالی گئی تو 9 ربیع الاول نکلی۔ مطلب کہ اس کے بارے میں صحیح بات کسی کو معلوم نہیں۔ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مہینہ 12 ربیع الاول کا تھا۔ اور دن پیر کا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کو پیر کے دن ہی نبوت ملی۔ پیر کے روز ہی آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور پیر کے روز ہی آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔

عام الفیل

آپ ﷺ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ یہی ہاتھیوں والے سال میں۔ اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔ آپ ﷺ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی تھی۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ابرہ یمن کا عیسائی حاکم تھا۔ حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں۔ اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا،
"یہ لوگ کہاں جاتے ہیں"
اسے جواب ملا:
"بیت اللہ کا حج کرنے مکہ جاتے ہیں"
اس نے پوچھا بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے،
اسے بتایا گیا،
"پتھروں کا ہے"، اس نے پوچھا اس کا لباس کیا ہے، بتایا گیا
"ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے"

ابرہ نے کہا مسیح کی قسم میں تم لوگوں کے لیے اس سے بہتر گھر تعمیر کروں گا۔ اس طرح اس نے سرخ، سفید، زرد اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا۔ سونے اور چاندی سے اس کو سجایا۔ اس میں کئی دروازے رکھوائے، اس میں سونے کے پترے جڑوائے۔ اس کے درمیان میں جوہر لگوائے۔ اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا۔ پردے لگوائے۔ وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا۔ اس کی دیواروں پر اس قدر مشک مل جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہو گئیں۔ یہاں تک کہ جوہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔

بیت اللہ کا حج

بیت اللہ کا حج  

ابرہ نے کہا اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ مکرمہ جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ میں نے یہی تمہارے لیے بیت اللہ بنوا دیا ہے۔ لہٰذا اب تم اس کا طواف کرو۔اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے۔ اس کا اعتکاف کرتے رہے۔ حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے۔

عرب کے ایک شخص نُفیل خُزاعی سے یہ بات برداشت نہ ہو سکی۔ وہ اس مصنوعی خانہ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا۔ آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ابرہ کی اس عمارت کو گندا کر کے چھوڑے گا۔ پھر ایک رات چوری چھپے اس نے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی۔ ابرہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا اور کہنے لگا ..

"یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے، میں اسے ڈھا دوں گا۔ اس کا ایک پتھر توڑ دوں گا"اس نے شاہِ حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں، اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دے۔ اس ہاتھی کا نام محمود تھا۔ یہ اتنا بڑا ہاتھی تھا اس سے بڑا ہاتھی روئے زمین میں دیکھنے کو نہیں آیا تھا۔

جب ہاتھی اس کے پاس پہنچا اور وہ اپنی فوج لے کر نکلا اور مکہ کا رخ کیا۔ یہ لشکر جب مکہ کے قریب پہنچا تو ابرہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں۔ اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے۔ اس میں عبدالمطلب کے اونٹ بھی تھے۔

نُفیل بھی اس لشکر میں ابرہ کے ساتھ موجود تھا۔ اور یہ عبدالمطلب کا دوست تھا۔ عبدالمطلب اس سے ملے۔ اونٹوں کے سلسلے میں بات کی۔ نُفیل نے ابرہ سے کہا،"قریش کا سردار عبدالمطلب ملنا چاہتا ہے۔ یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے۔ شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے۔ لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے۔ لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے۔ عطیات دیتا ہے، انہیں کھانا کھلاتا ہے۔"

ابرہ کی عبدالمطلب سے ملاقات

ابرہ کی عبدالمطلب سے ملاقات  

ابرہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلایا۔ ابرہ نے ان سے پوچھا: بتائیں آپ کیا چاہتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا:"میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں"  ان کی بات سن کر ابرہ بہت حیران ہوا۔ اس نے کہا:"مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہیں، بہت عزت اور بزرگئ کے مالک ہیں۔ لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے۔ کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں خیال کریں گے۔ جسے گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عزت وابستہ ہے۔ لیکن آپ نے تو سرے سے ہی اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی۔" https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/there-is-no-god-but-allah-explain-in.html

اس کی بات سن کر عبدالمطلب بولے:"آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں۔ بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے، وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔ مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔"  ان کی بات سن کر ابرہ نے کہا: ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں۔جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے تو انہوں نے ان کے سُموں پر چمڑے چڑھا دیے۔ ان پر نشان لگا دیا۔ انہیں قربانی کے لیے وقف کر کے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر انہیں کوئی پکڑے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو۔  پھر عبدالمطلب حرا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے۔ انہوں نے اللہ سے درخواست کی۔
"اے اللہ انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر"

سورة فیل کی تفسیر  

ادھر سے ابرہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔ وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے سرمیان موجود تھا۔ ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔ انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں۔ انکس چبھوئے لیکن وہ کھڑا نہ ہوا۔ کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔ اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا تو وہ پھر رک گیا۔ ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔ابرہ نے حکم دیا ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے تو ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھا سکیں۔ چنانچہ اسے شراب پلائی گئی لیکن اس پر بھی اس کا اثر نہ ہوا۔

ابرہ کا انجام  

ابرہ کے ہاتھی کو اٹھانے کی مسلسل کوشش جاری تھی کہ اچانک سمندر کی طرف سے ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں کو بھیج دیا۔ وہ ٹڈیوں کے جھنڈ کی طرح تھے۔دوسری طرف عبدالمطلب مکہ میں داخل ہوئے، حرم میں پہنچے، اور کعبہ کے دروازے کی زنجیر پکڑ کر ابرہ اور اس کے لشکر کے خلاف فتح کی دعا مانگی۔ ان کی دعا کے یہ الفاظ تھے۔

عبدالمطلب کی دعا

عبدالمطلب کی دعا  

اے اللہ، یہ بندہ اپنے قافلے اور اپنی جماعت کی حفاظت کر رہا ہے تو اپنے گھر یعنی بیت اللہ کی حفاظت فرما۔ ابرہ کا لشکر فتح نہ حاصل کر سکے۔ ان کی طاقت تیری طاقت کے آگے کچھ بھی نہیں۔ آج صلیب کامیاب نہ ہو۔ صلیب کا لفظ اس لیے بولا کہ ابرہ عیسائی تھا اور صلیب کو عیسائی اپنے نشان کے طور پر ساتھ لے کر چلتے ہیں۔اب انہوں نے اپنی قوم کو ساتھ لیا اور حرا پہاڑ پر چڑھ گئے، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ ابرہ کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔اور پھر اللہ نے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے۔ یہ پرندے چڑیا سے قدرے بڑے تھے، ان میں سے ہر پرندے کی چونچ میں 3 پتھر کے 3 ٹکڑے تھے۔ یہ پتھر ابرہ کے لشکر پر گرانے شروع کیے۔ جونہی یہ پتھر ان پر گرے ان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ اسی طرح جس طرح اوپر سے کوئی بم گرا دیا جائے تو جسموں کے ٹکڑے اڑ جاتے ہیں۔ ابرہ کا ہاتھی محمود ان کنکریوں سے محفوظ رہا۔ باقی سب ہاتھی تہس نہس ہو گئے۔ یہ ہاتھی 13 عدد تھے سب کے سب خاک ہوئے نحوست کی مانند ہو گئے۔ جیسا کہ سورة فیل میں آتا ہے۔"ابرہ اور اس کے ساتھی تباہی کا یہ منظر دیکھ کر بری طرح بھاگ گئے۔ لیکن پرندوں نے ان کو بھی نہ چھوڑا۔ ابرہ کے بارے میں طبقات میں لکھا ہے کہ اس کے جسم کا ایک ایک عضو الگ ہو کر گرتا چلا گیا۔ یعنی کہ وہ بھاگ رہا تھا اس کا ایک ایک حصہ الگ الگ ہو کر گر رہا تھا۔"عبدالمطلب یہ دیکھ رہے تھے کہ کب حملہ ہوتا ہے۔ لیکن جب حملہ آور مکہ میں داخل ہوئے تو وہ حالات معلوم کرنے کے لیے نیچے اترے، مکہ سے باہر نکلے تب انہوں نے دیکھا سارا لشکر تباہ ہو چکا ہے۔ خوب مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا۔ بے شمار سامان ہاتھ آیا۔ مال میں سونا چاندی بے تحاشا تھا۔ لشکر میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو مکہ میں رہ گئے تھے۔

محمد ﷺ کی آمد  

ہمارے نبی محمد ﷺ اس واقعے کے چند دن بعد پیدا ہوئے۔ آپ جس مکان میں پیدا ہوئے وہ صفا پہاڑی کے قریب تھا۔ آپ ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہوئی۔حضرت کعب احبارؓ روایت کرتے ہیں: کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ رسول ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہو گی۔ یہ کعب پہلے یہودی تھے۔ اس لیے تورات پڑھا کرتے تھے۔

دنیا میں آتے ہی آپ ﷺ روئے۔حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی والدہ کہتی ہیں کہ جب حضرت آمنہؓ کے ہاں ولادت ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھی۔ آپ ﷺ میرے ہاتھ میں آئے۔ یہ غالباً دایہ تھیں۔ ان کا نام شفاء تھا۔ فرماتی ہیں جب آپ میرے ہاتھوں میں آئے تو روئے۔

آپ کے دادا عبدالمطلب کو آپ کی ولادت کی اطلاع دی گئی۔ وہ اس وقت خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ اطلاع ملنے پر گھر آئے، بچے کو گود میں لیا۔اس وقت آپ کی والدہ نے ان سے کہا، "یہ بچہ عجیب ہے۔ سجدے کی حالت میں پیدا ہوا ہے۔" یعنی پیدا ہوتے ہی اس نے پہلے سجدہ کیا۔ پھر سجدے سے اٹھ کر انگلی آسمان کی طرف اٹھائی۔

عبدالمطلب نے آپ کو دیکھا۔ اس کے بعد آپ کو کعبہ میں لے آیا۔ آپ کو گود میں لے کر طواف کرتے رہے۔ پھر واپس لا کر حضرت آمنہؓ کو دیا۔آپ کو عرب کے دستور کے مطابق ایک برتن سے ڈھانپا گیا۔ لیکن وہ برتن ٹوٹ کر آپ کے اوپر سے ہٹ گیا۔ اس وقت آپ انگوٹھا چوستے نظر آئے۔اس موقع پر شیطان بری طرح چیخا۔

شیطان کا چیخنا

شیطان کا چیخنا  

تاریخ میں ہے شیطان 4 مرتبہ چیخا:پہلی بار تب جب اللہ نے اسے ملعون ٹھہرایا۔دوسری بار تب جب اسے زمین پر اتارا گیا۔تیسری بار تب چیخا جب آپ ﷺ کی پیدائش ہوئی۔اور چوتھی بار تب چیخا جب سورة فاتحہ نازل ہوئی۔  ماشاءاللہ کیا شان پائی ہے میرے آخری نبی ﷺ نے۔ جس کے بارے میں اللہ قرآن میں فرماتا ہے: "ہم نے آپ ﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجا۔" "ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔"  اللہ ہمارے دل میں نبی ﷺ کی محبت پیدا کرے اور ان کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین


https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/09/wiladat-e-mustafa-aur-abraha-ka-ibratnak-anjam.html





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کی محبت | قرآن و حدیث اور شیعہ کتب کی روشنی میں

ڈپریشن میں نیند نہ آنا: قرآن، سنت اور ڈاکٹر کا علاج - مکمل رہنمائی 2026