حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یہ قرآن کی سب سے خوبصورت کہانی ہے۔ اللہ نے پوری سورۃ یوسف اس لیے نازل کی اس میں صبر، محبت، اللہ سے مدد کا عمل ہے۔
بچپن اور بھائیوں کا حسد:
حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے جو بہت خوبصورت تھے۔ جن پر اللہ نے 9 حصے حسن لگا دیا تھا۔ایک رات انہوں نے خواب دیکھا کہ سورج، چاند اور 11 ستارے حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کر رہے ہیں۔
یہ خواب انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو سنایا۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: "بیٹا اس کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے دشمن ہو جائیں اور شیطان انہیں گمراہ کر دے۔"
حضرت یعقوب علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بڑا مرتبہ دے گا اس لیے خواب بتانے سے منع کیا۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے 2 شادیاں کی تھیں۔
1 بیوی کا نام راحیل رضی اللہ عنہا تھا جن سے 2 بیٹے پیدا ہوئے: حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت بنیامین علیہ السلام
2 بیوی کا نام لیّا رضی اللہ عنہا جن سے 6 بیٹے اور 1 بیٹی پیدا ہوئی۔
اور باقی 4 بیٹے ان کی 2 کنیزوں سے پیدا ہوئے۔حضرت یوسف علیہ السلام جب یہ خواب اپنے والد کو سنا رہے تھے تو ان کی دوسری بیوی نے یہ بات سن لی۔ جس سے وہ بھی حسد کرنے لگیں اور اپنے بیٹوں کو اس کی خبر دے دی۔صبح ان کے بھائیوں نے جب حضرت یوسف علیہ السلام سے خواب کا پوچھا تو انہوں نے نہیں بتایا۔ بھائیوں نے کہا: "ہم تم سے محبت کرتے ہیں پھر تم ہمیں کیوں نہیں بتاتے؟"
حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: "یہ میرے والد کا حکم ہے۔ انہوں نے مجھے خواب بتانے سے منع کیا ہے" جبکہ وہ خواب پہلے سے جانتے تھے۔اس سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے بھائی یوسف سے حسد کرنے لگے اور کہنے لگے: "ہم ہیں گے اپنے بابا کے جانشین۔"بھائی جل گئے، حسد کرنے لگے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ بنانے لگے اور کہنے لگے: "ہم یوسف کو قتل کر دیں گے اس کے بعد ابا جان ہمارے ہو جائیں گے۔"آخر میں ایک بھائی نے کہا: "کنویں میں ڈال دو۔ قتل مت کرو۔ کوئی قافلہ لے جائے گا۔" اس بھائی کا نام لاوی تھا۔حضرت یعقوب علیہ السلام سے اجازت لی کہ "ہم یوسف کو ساتھ لے کر جانا چاہتے ہیں کھیلنے کے لیے۔ شام کو واپس لے آئیں گے۔"
جبکہ شام کو خون سے بھرا کرتا واپس لے آئے اور کہا: "ابا جان یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔
کنویں سے محل تک:
ایک قافلے نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکالا اور مصر جا کر غلام کے طور پر چند سکوں کے عوض بیچ دیا۔
انہیں عزیز مصر نے خرید لیا۔ اللہ نے انہیں حسن و اخلاق عطا کیا۔جوان ہوئے تو محل کی بیوی زلیخا ان پر عاشق ہو گئی۔ زلیخا نے کہا: "ادھر آؤ۔"
حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا: "اللہ کی پناہ۔ میں کیسے آؤں؟ تم جانتی ہو میں کون ہوں۔
میں بھی نبی، میرا والد بھی نبی، میرا دادا بھی نبی۔ میں نسل در نسل پاک ہوں۔"زلیخا نے کہا: "محل میرا، حکومت میری، دروازے بند۔ میں نے کیا۔ بچ کر کہاں جاؤ گے؟"
حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا: "گناہ نہ کر۔ جس اللہ کو میں جانتا ہوں، ارادہ کرتے ہی ڈر ہے دروازے خود بخود کھل جائیں گے۔"اللہ نے حکم دیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام دروازوں کی طرف بھاگے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام دروازے کی طرف بھاگے تو دروازے خود بخود کھل گئے۔
اور آخر میں عزیز مصر کو اپنے سامنے پایا۔ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام پر الزام لگا دیا کہ "ہم نے اتنی عزت دی۔ ہماری محبت و عزت کا یہ صلہ دیا۔"لیکن گھر کے ایک بچے نے گواہی دی: "اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو یوسف بے گناہ ہیں۔ اگر کرتا آگے سے پھٹا ہے تو یوسف قصور وار ہیں۔"آخر میں حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ثابت ہوئی۔ اور لوگوں کے طعنوں سے بچنے کے لیے یوسف علیہ السلام کو جیل میں بھیج دیا گیا۔
جیل اور بادشاہ کا خواب:
جیل میں 2 نوجوان بھی تھے۔ دونوں نے خواب سنائے۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے 1 کی صحیح تعبیر بتائی: "تم رہا ہو جاؤ گے۔ بادشاہ کو شراب پلاؤ گے۔"7 سال بعد بادشاہ نے خواب دیکھا: "7 موٹی گائیں، 7 پتلی گائیں کھا گئیں۔ اور 7 ہری بھری بالیاں گندم کی، خشک ہو گئیں۔"
یہ خواب بادشاہ کو دنوں پریشان کرتا رہا۔ بار آتا رہا۔
بادشاہ نے حکم دیا کہ تمام جادوگروں کو بلایا جائے۔ اس خواب کی تعبیر پوچھی جائے۔ کسی کو خواب کی تعبیر نہ آئی۔پاس کھڑے ساقی نے کہا: "بادشاہ سے، میں آپ کی مشکل کا حل جانتا ہوں۔ ایک قیدی جو فی الحال جیل میں ہے وہ آپ کو خواب کی تعبیر دے سکتا ہے۔"
بادشاہ نے حکم دیا: "اسے فوراً میرے پاس لے کر آؤ۔"
حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس وہ قیدی گیا۔ خواب بیان کیا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام نے تعبیر بتائی: "7 سال نعمت کے اور 7 سال قحط کے مصر پر آ رہے ہیں۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ 7 سالوں میں خوب کاشتکاری کی جائے اور قحط کے 7 سالوں میں استعمال کر کے قحط پر قابو پایا جائے۔"جب ساقی نے حضرت یوسف علیہ السلام کی تعبیر پیش کی اور اس مشکل کا حل بھی بتایا تو بادشاہ نے حکم دیا: "یوسف کو میرے سامنے عزت و وقار سے لے کر آؤ۔"حضرت یوسف علیہ السلام نے ساقی سے کہا: "پہلے بادشاہ سے جا کر کہیں کہ پہلے وہ معلوم کریں کہ ازواجِ مصر کا اپنے ہاتھوں کو کاٹنے کا ماجرا کیا تھا۔"
حضرت یوسف علیہ السلام تہمت سے آزادی چاہتے تھے۔ اس لیے پہلے آزادی کے لیے راضی نہ تھے۔بادشاہ کے حکم پر سب ازواجِ مصر کو، بڑی بڑی امیر عورتوں کو اکٹھا کیا گیا۔ اور زلیخا کو بھی بلایا گیا۔ وجہ پوچھی۔ سب نے حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی گواہی دی اور زلیخا نے اعترافِ جرم کیا۔حضرت یوسف علیہ السلام کی عزت و مرتبہ بادشاہ کی نظر میں اور بڑھ گئے۔ یوسف کو رہا کرنے کے بعد انہیں عزیزِ مصر بنا دیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے نہ صرف مصر کے لوگوں کی امانتوں کی حفاظت کی بلکہ اللہ کی توحید کا حکم بھی دیا۔
اللہ کی توحید وہ جیل میں بھی بیان کرتے رہے۔ ہر جگہ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔
بھائیوں سے ملاقات اور معافی:
قحط کی وجہ سے یوسف کے بھائی بھی مصر سے اناج لینے آئے۔ انہوں نے یوسف علیہ السلام کو پہچانا نہیں۔
یوسف علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا۔یوسف علیہ السلام نے چالاکی سے اپنے چھوٹے بھائی بنیامین کو اپنے پاس روک لیا۔
پھر ایک دن سب کے سامنے کہا:
"کیا تمہیں یاد ہے تم نے یوسف کے ساتھ کیا تھا؟"سب ڈر گئے۔
یوسف علیہ السلام نے کہا: "آج تم پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے۔"
اپنا کرتا واپس بھیج کر اپنے ابا کی آنکھوں کی بینائی واپس دلوائی اور سارے خاندان کو مصر بلایا۔پھر حضرت یوسف علیہ السلام کی اپنے والد یعقوب علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اور ان کے خواب کی تعبیر پوری ہوئی۔
پھر ان کے والد، ان کی والدہ اور 11 بھائیوں نے انہیں سجدہ کیا۔اللہ جسے عزت دے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا اور جسے اللہ ذلیل کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-yousaf-as-ka-waqia.html


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں