اسلام کی تاریخ ان عظیم ہستیوں سے روشن ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو قربانی، صبر اور عبادت کا نمونہ بنا دیا۔ ان ہستیوں میں سب سے نمایاں نام حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا ہے۔آپ ﷺ کی سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی ہیں۔ آپ خاتونِ جنت، جنتی عورتوں کی سردار اور سب سے زیادہ حیا والی بیٹی ہیں۔امام الانبیاء، رحمتہ اللعالمین ﷺ اپنی بیٹی کا بہت احترام کرتے تھے۔ جب آپ اپنی بیٹی کو اپنے پاس آتا دیکھتے تو اپنے کپڑے ٹھیک کرتے۔ صحابہ نے پوچھا: "یا رسول اللہ ﷺ ایسا کیوں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "جس کی حیا اللہ کرے، اس کی میں کیوں نہ کروں"
آج ہم تفصیل سے جانیں گے کہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا اسلام میں مقام اور منزلت کیا ہے۔ اور یہ بھی جانیں گے کہ انہوں نے یہ مقام خود اپنے اعمال سے حاصل کیا ہے۔جیسے آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، اسی طرح ہر دور کی عورتوں کے لیے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی اور ان کا کردار امت کی خواتین کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا تعارف
مکمل نام: فاطمہ بنت محمد ﷺ
القاب: الزہرا، البتول، سیدہ، طاہرہ
لقب "زہرا" کا مطلب: روشن، چمکدار، سورج کی طرح نور دینے والیولادت: 20 جمادی الثانی، مکہ مکرمہ میں، بعثت کے 5ویں سال
والدین: والد - حضرت محمد ﷺ، والدہ - حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
شوہر: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
اولاد: حضرت امام حسن، حضرت امام حسین، حضرت زینب، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہم
حدیث مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے" - ترمذی
قرآن و حدیث میں فضیلت
قرآن مجید میں کئی جگہ اہل بیت رسول ﷺ کا ذکر آیا ہے۔ ان میں سب سے واضح دلیل آیت تطہیر ہے۔
آیتِ تطہیر
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا
ترجمہ: "اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے ہر طرح کی ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں خوب پاک کر دے" - سورة الاحزاب: 33مفسرین کی رائے: امام ترمذی، امام مسلم اور دیگر محدثین کے مطابق اس آیت میں حضرت فاطمہ، مولا علی، امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
حدیثِ کساء
جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ، مولا علی، امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہم کو ایک چادر کے نیچے جمع کیا اور دعا فرمائی:"اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ جو ان سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت فرما، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی فرما"یہ حدیث صحیح مسلم اور ترمذی میں موجود ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان
"فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی" - بخاری
"اللہ فاطمہ کے راضی ہونے سے راضی ہوتا ہے اور اس کے ناراض ہونے سے ناراض ہوتا ہے"
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کے 5 عظیم پہلو
1. صبر اور قربانی کی تصویر
مکہ میں شعب ابی طالب کا 3 سال کا بائیکاٹ ہوا۔ چھوٹے بچوں کے ساتھ بھوک برداشت کی۔ بدر اور احد میں زخمی والد کے زخم دھوئے اور کبھی شکوہ نہیں کیا۔
آپ کو ام ابیہا بھی کہا جاتا ہے یعنی اپنے والد کی ماں۔ رات بھر عبادت کرتیں۔ تسبیح فاطمہ مشہور ہے۔ 33 دفعہ سبحان اللہ، 33 دفعہ الحمدللہ، 34 دفعہ اللہ اکبر۔
3. حیا اور پردہ
آپ حیا کی انتہا تھیں۔ وصیت کی کہ میرا جنازہ رات کے وقت اٹھایا جائے۔ زندگی میں کبھی غیر مرد نے مجھے نہیں دیکھا۔ میں نہیں چاہتی کہ دنیا سے جانے کے بعد کسی غیر مرد کی نظر بھی میرے جنازے پر پڑے۔ آج بھی دنیا کی عورتوں کے لیے وہ سب سے بڑی مثال ہیں۔
4. گھر کا نظام و نسق
چکی پیسنا، مشکیں بھرنا، گھر کے کام خود کرنا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے شکایت نہیں کی۔ نبی ﷺ نے انہیں خادم دینے کی بجائے تسبیح فاطمہ سکھائی۔
5. امت کی درد مند
ہمیشہ امت کی فکر۔ وفات سے پہلے نصیحت کی کہ میرے بعد میری امت کا خیال رکھنا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعات جو دل ہلا دیتے ہیں
ایک بار گھر میں 3 دن سے کچھ کھانے کو نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھجور لے کر آئے۔
رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور سب نے مل کر کھائی۔ اس دن سے کسی نے شکایت نہیں کی۔
واقعہ 2: جنت کا دروازہ
معراج کی رات نبی ﷺ نے فرمایا: "جب بھی میں جنت میں گیا فاطمہ کی خوشبو آئی"۔
نبی ﷺ کی وفات
نبی ﷺ کے دنیا سے جانے سے پہلے آپ نے ایک راز کی بات اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کان میں کی۔ جسے سن کر وہ رونے لگیں۔ اس کے بعد پھر ایک بات کی جسے سن کر وہ مسکرانے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب وجہ پوچھی تو آپ نے نہیں بتائی۔ جب آپ ﷺ دنیا سے چلے گئے، تو پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کی قسم دے کر پوچھا: "میں تمہاری روحانی ماں ہوں۔ آپ ﷺ کی بیوی ہونے کے ناتے کیا تم اب بھی نہیں بتاؤ گی کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟"انہوں نے کہا: "ہاں میں اب بتاتی ہوں"۔آپ ﷺ نے مجھے کان میں کہا کہ میں عنقریب فوت ہو جاؤں گا، پھر میں رونے لگیں۔ اور پھر آپ نے میرے کان میں کہا "سب سے پہلے تم مجھ سے آ کر ملو گی"۔
اختلاف: شیعہ سنی
شیعہ کے نزدیک حضرت فاطمہ کی شہادت ہوئی۔ سنی عقیدے کے اعتبار سے آپ کی طبعی موت ہوئی۔ آئیے حقیقت دیکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے مولا علی کو شہادت کا کہا۔ اپنے نواسوں کے بارے میں کہا کہ انہیں عنقریب شہید کر دیا جائے گا۔ لیکن ایسی کوئی بات نبی ﷺ نے اپنی بیٹی سے نہیں کی۔ نہ یہ بات شیعہ کتابوں میں ہے نہ سنی کتابوں میں کہ دنیا میں آپ ﷺ نے جو بات مولا علی، امام حسن اور حسین کے لیے کی وہ اپنی بیٹی کے لیے نہیں کی۔
آج کے لیے سبق
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ہر ماں، بیٹی اور بیوی کے لیے مثال ہے۔ماؤں کے لیے: اولاد کی تربیت حسن اور حسین جیسی کریں
بیٹیوں کے لیے: والد کی خدمت اور فرمانبرداری
بیویوں کے لیے: شوہر کا ساتھ صبر سے دینا
ہم سب کے لیے: حیا، پردہ اور عبادت کو اپنی زندگی بنانا
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال 3 رمضان 11 ہجری کو ہوا۔ عمر مبارک صرف 18 سے 24 سال تھی۔ لیکن اتنی کم عمر میں آپ نے قیامت تک کے لیے مثال قائم کر دی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: "فاطمہ سب سے پہلے مجھ سے آ کر ملے گی"۔ اور ایسا ہی ہوا۔
حسب و نسب
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی میت کو جب قبر کے پاس لایا گیا، تو حضرت ابوذر غفاری قبر سے باتیں کرنے لگے۔ اور کہنے لگے: "اے قبر! تو جانتی ہے ہم تیرے پاس کس کو لے کر آئے ہیں؟ یہ رسول اللہ کی بیٹی کا جنازہ ہے، یہ علی کی بیوی کا جنازہ ہے، یہ امام حسن اور حسین کی والدہ کا جنازہ ہے"۔قبر سے آواز آئی: "اے ابوذر! یہاں رشتے نہ گنوا۔ یہ بتا کہ اچھے عمل کر کے آئی ہے یا برے"۔میری ماں، میری بہن یہ جملہ حضرت فاطمہ کے لیے نہیں یہ ہمارے لیے ہے۔ ہم سب ماؤں بہنوں کے لیے نکلی ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تو جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔
*نتیجہ*
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک نام نہیں، ایک تاریخ ہیں۔ وہ صبر ہیں، وہ حیا ہیں، وہ عبادت ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی میں ان کا 1% بھی اصول اپنا لیں تو ہماری دنیا اور آخرت کامیاب ہو جائے گی۔
اللہ ہم سب کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں