حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ | 9 معجزے اور صبر کی کہانی

                                                          بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ

یہ واقعہ قرآن کی سب سے لمبی اور عبرت والی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اللہ نے اس میں ظلم کے خلاف حق کی جیت دکھائی ہے۔

فرعون کا ظلم:

اس وقت مصر کا بادشاہ فرعون تھا۔ وہ کہتا تھا میں ہی تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔

اس نے خواب میں دیکھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو اس کی حکومت ختم کرے گا۔اس لیے اس نے حکم دیا کہ ہر لڑکے کو پیدا ہوتے ہی ختم کر دیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے۔

تو فرعون کے ساتھیوں نے بنی اسرائیل کی نگرانی شروع کر دی۔ ہر پیدا ہونے والے لڑکے کو قتل کر دیا جاتا جبکہ لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا جاتا۔فرعون کے سپاہی حاملہ عورتوں کی تلاش شروع کر دی۔ ہر حاملہ عورت کی اطلاع دی جانے لگی اور حاملہ عورتوں کو بھی قتل کر دیا جاتا۔ جو یہ بات معاشرے میں چھپاتا اس کو بھی قتل کر دیا جاتا۔اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ حاملہ تھیں لیکن انہوں نے اسے چھپا کر رکھا اور آس پاس کے لوگ بس یہی بات جانتے تھے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش:

اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے۔اللہ نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں الہام ڈالا۔ مطلب ان کے دل میں یہ بات ڈال دی گئی:

"جب تمہیں کوئی خطرہ محسوس ہو تو اسے صندوق میں ڈال کر دریا میں بہا دو۔ ہم یقیناً اسے تمہاری طرف واپس بھیج دیں گے۔"والدہ نے ایسا ہی کیا۔ جب خطرہ محسوس ہوا تو موسیٰ علیہ السلام کو دریا میں ڈال دیا اور اپنی بیٹی سے کہا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن تھیں: "تو اس کے ساتھ چل۔"حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن دور سے اپنے بھائی کو دیکھتی جاتی اور کنارے کے ساتھ چلتی جاتی۔فرعون کی بیوی نے انہیں دیکھا اور پالنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش فرعون کے گھر میں ہوئی۔حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون سے کہا: "ہم اسے پال لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں نفع دے اور یہ ہم دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے۔"فرعون نے کہا: "یہ صرف تیری ہی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میری نہیں۔"

علماء کرام لکھتے ہیں اگر فرعون کہہ دیتا کہ "یہ میری بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے" تو اللہ اسے ہدایت دے دیتا۔ لیکن اس نے کہا "یہ صرف تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔"

عورتوں کا دودھ پلانا

حضرت موسیٰ علیہ السلام شیر خوارگی میں کسی کا دودھ نہیں پیتے تھے۔

فرعون نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا: "سب دائیوں کو بلایا جائے" لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔اللہ قرآن میں فرماتا ہے - سورۃ القص:

"ہم نے موسیٰ پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا۔"حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن یہ سب دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا: "میں جانتی ہوں کون سی عورت اسے دودھ پلا سکتی ہے۔"

فرعون نے کہا: "تم کیسے جانتی ہو؟"

انہوں نے کہا: "ایک عورت ہے وہ بہت غریب ہے۔ اس کی کوئی اولاد نہیں۔ وہ اسے دودھ پلا سکتی ہے۔"اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے ان کی والدہ سے ملا دیا۔

اللہ قرآن میں کہتا ہے:

"پھر ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ سے ملا دیا۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔"حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: "تم یہیں رک جاؤ"

عورت نے کہا: "میرے گھر والے ہیں، میرے خاوند ہیں۔ مجھے ان کی خدمت کرنی ہوتی ہے۔ میں اسے اپنے ساتھ لے جاتی ہوں۔"حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا احترام بڑھ گیا۔ فرعون کے سپاہی تحفے تحائف لاتے اور اس کی فیملی کی اچھی دیکھ بھال کرتے۔

نبوت ملنا اور تبلیغ:

جوان ہونے کے بعد اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا کی۔

اللہ کا حکم ہوا: "فرعون کے پاس جاؤ۔ وہ بہت سرکش ہو گیا ہے۔"موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا وزیر بنایا اور فرعون کو توحید کی دعوت دی۔

"بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔ اللہ کی عبادت کرنے دو۔"

فرعون کے سامنے 9 معجزے:

فرعون کے سامنے 9 معجزے:

فرعون نے انکار کیا اور جادوگروں کو بلایا۔ اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو 9 معجزے عطا کیے:

عصا کا سانپ بننا - لاٹھی سانپ بن کر سب جادوگروں کے سانپ نگل گئی

ید کا نور - ہاتھ نکالتے ہی چمکنے لگتا

طوفان

ٹڈیوں کا حملہ

جُوئیں

مینڈکوں کی بارش

خون - پانی خون بن گیا

قحط

بیماریاں

ہر عذاب کے بعد فرعون کہتا: "دعا کرو کہ یہ مصیبت ٹل جائے، ہم ایمان لے آئیں گے۔"

مصیبت ختم ہوتے ہی مکر جاتا۔ اپنی بات بدل جاتا۔

سمندر کا معجزہ اور فرعون کی غرق

سمندر کا معجزہ اور فرعون کی غرق

آخر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے۔فرعون کا لشکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیچھا کرنے لگا۔ بنی اسرائیل کے لوگوں نے کہا:

"ہم مارے گئے۔ آگے دریا اور پیچھے فرعون کا لشکر۔"

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: "ہرگز نہیں۔ اللہ پر یقین رکھو۔"اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی: "اے موسیٰ اپنا عصا دریا میں پھینک دو۔"

جب عصا دریا میں ڈالا تو دریا 2 حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لشکر دریا سے گزر گیا۔جب فرعون کا لشکر پیچھا کرتے ہوئے آیا تو اللہ کے حکم سے دریا اپنی اصل جگہ پر آ گیا۔ جس سے فرعون اور اس کا لشکر غرق ہو گیا۔علماء کے مطابق جب فرعون اپنی موت کے وقت غرق ہو رہا تھا تب فرشتے اس کے منہ میں مٹی ڈال رہے تھے۔

اگر فرعون کلمہ پڑھ لیتا تو خدا کی خدائی اسے بخش دیتی۔کچھ علماء کے مطابق فرعون نے ڈوبنے کے دوران توبہ کی۔ اللہ نے فرمایا:

"اب ایمان لاتا ہے؟ ہم تجھے عبرت کا نشان بنا دیں گے اور تیری لاش کو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے نشانی رکھیں گے۔"اللہ قرآن میں کہتا ہے:

"کیسے ہم حق کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔"

واقعے سے 3 سبق:

بے شک مشکل کے بعد آسانی ہےتوکل - اللہ کے لیے نکلو، راستہ وہ خود بنا دے گاظلم کا انجام - فرعون جیسا طاقتور بھی اللہ کے سامنے کچھ نہیں سب سے بڑا سبق: 

توحید

توحید ایسی بیان کرو جیسی موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے بیان کی۔ جو اس کا دشمن ہو گیا۔ اللہ کے علاوہ کسی سے نہ ڈرو۔اگر توحید ایسی بیان کی جائے جس سے پھولوں کے ہار اور واہ واہ ہو، تو جان لیں یہ توحید نبیوں والی نہیں ہے۔اللہ پاک ہمیں قرآن اور نبیوں کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/

https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-yousaf-as-ka-waqia.html

https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-ibrahim-as-ka-waqia-quran-hadees.html

https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-musa-as-aur-firaun-ka-waqia-9.html


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کی محبت | قرآن و حدیث اور شیعہ کتب کی روشنی میں

ڈپریشن میں نیند نہ آنا: قرآن، سنت اور ڈاکٹر کا علاج - مکمل رہنمائی 2026

ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور ابرہہ کا عبرتناک انجام