حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے دوسرے خلیفہ ہیں۔ آپ کو الفاروق کہا جاتا ہے، کیونکہ آپ نے حق اور باطل
کے درمیان فرق واضح کر دیا۔
آپ کی پوری زندگی عدل، تقویٰ اور اسلام کی خدمت کی عظیم مثال ہے۔آج ہم ان کا ایک واقعہ احادیث اور شیعہ کتب کی روشنی
میں دیکھیں گے
اسلام لانے کا واقعہ - حق کی طاقت
پہلے آپ اسلام کے سخت مخالف تھے۔ لیکن پھر اپنی بہن حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کے گھر قرآن کی تلاوت سن
کر اسلام قبول کر لیا۔صحیح بخاری 3864، صحیح مسلم 2392 میں آتا ہے
نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی
"اے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب یا ابو جہل میں سے جسے تو چاہے، اس کے ذریعے عزت عطا فرما۔"
اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چن لیا۔
شیعہ کتب کی روشنی میں
شیعہ علماء بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہادر اور انصاف پسند تھے۔
کتاب سلیم بن قیس اور بحار الانوار میں ان کی سیاست اور انتظامی صلاحیتوں کا ذکر ملتا ہے۔شیعہ نظریہ میں خلافت کے مسئلے
پر اختلاف ضرور ہے، لیکن بہت سے شیعہ حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عادل، بہادر اور انصاف پسند
حکمران مانتے ہیں۔وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ آپ نے اپنی اولاد کے لیے کچھ نہ چھوڑا۔ ساری زندگی چٹائی پر گزاری۔
عدل کا واقعہ - آدھی رات کا گشت
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو مدینہ میں گشت کرتے تاکہ رعایا کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ایک رات آپ نے ایک خیمے سے بچے کے رونے کی آواز سنی۔ اندر جا کر دیکھا تو ایک عورت بچے کے لیے کھانا پکا رہی تھی۔ وجہ پوچھی تو کہا: "بھوکے ہیں، عمر ہمارا خیال نہیں رکھتا۔"حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوراً بیت المال سے آٹا لے کر آئے اور خود روٹی
پکائی۔
فرماتے تھے: "اگر دریائے دجلہ کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے اللہ پوچھے گا۔"سبق: حکمران کی ذمہ داری
رعایا ہے۔
تقویٰ اور سادہ زندگی
خلیفہ ہونے کے باوجود آپ کے لباس پر پیوند لگے ہوتے تھے۔ بیت المال سے اتنا ہی لیتے جتنا ایک عام مسلمان کو ملتا۔حدیث
صحیح بخاری
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کو قمیصیں پہنائی گئیں۔ عمر کے پاس اتنی لمبی قمیص آئی کہ وہ
اسے گھسیٹ رہے تھے۔"
صحابہ نے تعبیر پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "دین"
نہج البلاغہ میں ذکر
نہج البلاغہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبوں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی انتظامی صلاحیتوں اور عدل کا ذکر ملتا ہے۔آپ نے ہی بیت المال کا منظم نظام، قضا یعنی عدالتی نظام، اور ہجری کیلنڈر جیسے اہم ادارے قائم کیے۔آپ کی خلافت
میں اسلام کی سرحدیں پھیلیں، فوج کا نظام بنا، اور رعایا کو انصاف ملا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی محبت
صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے بیٹے نے پوچھا
"ابا جان! آپ ﷺ کے بعد اس دنیا میں سب سے افضل کون ہیں؟" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ابوبکر رضی اللہ عنہ"
پوچھا: "پھر کون؟" فرمایا: "عمر رضی اللہ عنہ"
پھر بیٹے نے پوچھا: "پھر اس کے بعد آپ ہیں؟"
تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "میں تو ایک عام مسلمان ہوں۔"یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صحابہ کرام سے
محبت تھی۔ وہی محبت جو نبی کریم ﷺ کو باقی انبیاء کرام سے تھی۔
جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا: "مجھے حضرت یونس علیہ السلام سے افضل نہ کہو"۔
بیشک آپ ﷺ کا مقام سب سے بلند ہے، لیکن یہ بات کہہ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی سنت ہی ادا کی۔
باہمی محبت اور احترام
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کہیں جاتے تو اپنا پورا اسلامی نظام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر کے جاتے۔
جیسے نبی کریم ﷺ کیا کرتے تھے۔اگر اس دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید ہو جاتے تو خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی بنتے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا علم بہت مضبوط تھا۔ آپ نے کئی بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بہترین مشورے
دیے۔
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔"
رشتہ داری
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا رشتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ "میں چاہتا ہوں کہ قیامت کے دن اہل بیت کی نسبت میرے کام آئے" اس لیے رشتہ
مانگا۔
یہ بات شیعہ کتب میں بھی موجود ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زبردستی لیا گیا، لیکن اس کا کوئی مستند ثبوت نہیں۔ علماء اور
محدثین اس رشتے کو تسلیم کرتے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "فتنوں اور میرے اسلام کے درمیان دیوارعمر ہیں۔ جب یہ دیوار گر جائے گی تو میری امت پر فتنے ٹوٹ پڑیں گے۔"اسی لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کو "خلافتِ محفوظہ" کہا جاتا ہے۔
اور باقی 2 خلفاء کے دور کو "خلافتِ مفتونہ" یعنی فتنوں کا دور کہا جاتا ہے۔آپ کو فجر کی نماز میں ابو لؤلؤ فیروز نے زہر آلود خنجر سے شہید کیا۔شہادت سے پہلے آپ نے 3 دن تک خلافت کا نظام بنایا اور 6 صحابہ کرام کی شوریٰ بنا دی جو عشرہ
مبشرہ میں سے تھے۔
فرمایا: "اگر میں شہید ہو جاؤں تو ان میں سے خلیفہ چن لینا۔"
اس فہرست میں سب سے پہلا نام حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تھا۔
وصیت
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے وصیت کی
"میری قبر کو نبی کریم ﷺ کے قدموں میں بنانا۔ پہلے جا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت لینا اور میرا نام لے کر پوچھنا۔ اگر وہ اجازت دے دیں تو وہیں دفن کرنا، ورنہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین کرنا۔"اسی لیے حضرت عمر رضی
اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کے پہلو میں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن کیا گیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خواہش
حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔
ایک شخص آیا، اس نے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا۔
اور میت کو مخاطب کر کے کہا: "اے عمر بن خطاب! اللہ تجھ پر رحم کرے۔ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے بارہا سنا: میں، ابوبکر اور عمر فلاں جگہ گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابوبکر اور عمر نکلے۔ اللہ کی قسم! اس روئے زمین پر
تم وہ پہلے شخص ہو۔""میری خواہش ہے کہ جب میں اللہ کے حضور پیش ہوں تو تیرے جیسے اعمال کر کے پیش ہوں۔"اس پر
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کاش! میں بھی اس کی طرح ہوتا۔"
شیعہ سنی اختلاف - چند سوالات اور ان کے جواب
سوال 1: کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نعوذ باللہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ظلم کیا؟
جواب
نبی کریم ﷺ نے دنیا میں ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو شہادت کی بشارت دی۔ لیکن اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو شہادت کی بشارت نہیں دی۔ اگر ایسا کوئی واقعہ ہوتا تو ضرور بتاتے۔سب سے بڑی دلیل: نبی ﷺ نے فرمایا "فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف
دی۔"
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث معلوم نہیں تھی؟ اگر کوئی زیادتی ہوتی تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیوی
کی قاتل کے ساتھ اپنی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا رشتہ کرتے؟
یہ رشتہ شیعہ کتب میں بھی موجود ہے۔ کچھ لوگ "زبردستی" کی تاویل کرتے ہیں لیکن انکار کوئی نہیں کرتا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی 10 سالہ خلافت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے سب سے بڑے مشیر اور چیف جسٹس کے عہدے پر
فائز رہے۔
اگر کوئی اختلاف ہوتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ خود فرماتے: "تم میری بیوی کے قاتل ہو، میں تمہاری حکومت کیسے قبول
کروں؟"
تاریخ میں ایک بھی حوالہ نہیں ملتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو چیلنج کیا ہو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حق نبی کریم ﷺ نے فرمایا
"علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے۔"یہی وجہ ہے کہ مولا علی رضی اللہ عنہ نے خلافتِ راشدہ کا ساتھ دیا،
کیونکہ وہ حق کے ساتھ تھے۔
اور خلفاء راشدین بھی مولا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اور وہ بھی حق کے ساتھ تھے ۔
سب سے بڑی دلیل
نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مقام صحابہ میں سب سے بلند ہے۔
ان سے جنگِ جمل میں ایک اجتہادی غلطی ہوئی، جس کی وجہ سے مولا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے خلاف میدان میں آنا پڑا۔
لیکن وہ اس پر بہت شرمندہ ہوئیں اور توبہ کی۔ اس واقعے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ جس کے ساتھ علی ہوں وہ حق پر ہے۔
اس وقت مولا علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے، اس لیے صحابہ کرام نے ان کی بیعت کی۔
مولا علی رضی اللہ عنہ کی شان مولا علی رضی اللہ عنہ توحید کے علمبردار تھے۔
نبی کریم ﷺ نے خود ان کی پرورش کی، اسی لیے ان کی ساری زندگی میں کوئی خطا سرزد نہیں ہوئی۔خلاصہ
جس کے ساتھ علی ہوں وہ حق ہے
اور جو علی کے ساتھ ہو وہ بھی حق ہے
سب سے اہم بات مولا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے بھائی بھی تھے اور روحانی باپ بھی تھے۔
نبی ﷺ نے غدیر خم پر فرمایا تھا: "میں جس کا مولا، علی اس کا مولا"مولا علی رضی اللہ عنہ کو خلافت کی ضرورت نہیں تھی
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بادشاہ تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بادشاہ تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بادشاہ تھے
لیکن مولا علی رضی اللہ عنہ "کنگ میکر" تھے۔ مولا علی رضی اللہ عنہ نے کبھی اپنے روحانی باپ یعنی نبی کریم ﷺ سے
خلافت نہیں مانگی۔
تو پھر وہ دوسروں سے کیوں مانگتے؟
سب سے بڑی دلیل - بخاری کی حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
نبی کریم ﷺ کے آخری وقت میں نے کہا: "آئیں، ہم نبی ﷺ سے خلافت مانگ لیتے ہیں۔ میں موت کے وقت بنو ہاشم کے چہرے
پہچانتا ہوں۔"اس پر مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا
"اگر نبی ﷺ نے انکار کر دیا تو لوگ بنو ہاشم کو کبھی خلیفہ نہیں چنیں گے۔"
حوالہ: بخاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں