جانیے کیسے مولا علی علیہ السلام نے اکیلے خیبر کا قلعہ فتح کیا۔ جنگ خیبر کا مکمل واقعہ،
خیبر ایک بڑا قصبہ تھا ۔ اس میں یہودیوں کی بڑی بڑی حویلیاں ، کھیت اور باغات تھے ۔ یہود مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے ، اور اسلام کے خلاف سازشیں کرتے تھے ۔ مدینہ منورہ سے خیبر کا فاصلہ 150 کلو میٹر کا ہے ۔ حدیبیہ سے تشریف لانے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 1 ماہ تک یا اس سے کچھ کم مدت تک یعنی ذوالحجہ 6 کے آخر تک مدینہ ہی میں رہے اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف روانہ ہوئے ۔
صحابہ کو حکم
رسول اللہ نے اپنے صحابہ میں سے صرف ان لوگوں کو چلنے کا حکم فرمایا جو حدیبیہ میں بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ جو لوگ حدیبیہ کے سفر میں نہیں گئے تھے ، انہوں نے بھی چلنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " میرے ساتھ چلنا ہے تو صرف جہاد کے ارادے سے چلو ، مالِ غنیمت میں تمہیں کچھ نہیں ملے گا ۔ مدینہ منورہ سے روانہ ہوتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سِبا بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا ۔ اس غزوہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا بھی ہمراہ تھیں ۔
جنت کا خزانہ
اللہ کے رسول جب خیبر کے سامنے پہنچے تو یہ صبح کا وقت تھا ۔ حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے پیچھے تھا ۔ ایسے میں میں نے "لا حول ولا قوت الا باللہ العلی العظیم" پڑھا ۔ میرے منہ سے یہ کلمہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اے عبداللہ کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے " آپ نے ارشاد فرمایا اے اللہ کے رسول ضرور بتیا فرمایا وہ یہی کلمہ ہے ۔ جو تم نے پڑھا ، یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ، یہ کلمہ اللہ کو بہت پسند ہے ۔**
ہمت اور جذبہ
خیبر کے لوگوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کو دیکھا اور چیختے چلاتے میدانوں اور کھلی جگہوں میں نکل آئے اور پکار اٹھے ۔ "محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک زبردست لشکر لے کر آگے ہیں " یہودیوں کی تعداد وہاں 10000 تھی ، اور وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ، کہ مسلمان ان سے مقابلہ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوں گے ۔ جب مسلمان جنگ کی تیاری کر رہے تھے تو اس وقت بھی حیران ہو کر کہہ رہے تھے ۔حیرت ہے ، کمال ہے ، ....**
قلعہ نطات
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ان قلعوں میں سے سب سے پہلے ایک قلعہ نطات کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا محاصرہ کر لیا ۔ اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد بھی بنائی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جتنے دن خیبر میں رہے ، اس جنگ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 2 زریں پہن رکھی تھیں ، اور گھوڑے پر سوار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کا نام ضرب تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نیزہ اور ڈھال بھی تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کو پرچم بھی دیا ۔ وہ پرچم اٹھایا آگے بڑھا ، انہوں نے زبردست جنگ کی ، لیکن ناکام لوٹ آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرچم دوسرے صحابی کو دیا وہ بھی ناکام لوٹ آیا ۔**
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے بھائی محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ قلعے کی دیوار کے نیچے تک پہنچ گئے ۔ لیکن اوپر سے مرحب نامی یہودی نے ان کے سر پر ایک پتھر دے مارا اور وہ شہید ہو گئے ۔ کہا جاتا ہے قلعے کی دیوار کے قریب انہوں نے بہت سخت جنگ کی تھی ۔ جب بالکل تھک گئے تو اسی قلعے کی دیوار کے سائے میں دم لینے لگے ۔ اسی وقت اوپر سے مرحب نے پتھر گرایا تھا ۔
قلعہ نطات کے لوگ سات دن تک برابر جنگ کرتے رہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر جنگ کے لیے نکلتے ۔ پڑاؤ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نگران بناتے
.......https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-usman-bin-affan-ra-zun-noorain.html .
شام کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت واپس آیا جاتے ۔ رات کے وقت ایک لشکر کی نگرانی کرتا باقی لشکر سو جاتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نگرانی کرنے والا دستے کے ساتھ گشت پر نکلتے ۔ کئی روز تک جب قلعہ فتح نہ ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا ۔ " آج میں پرچم اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔اور وہ پیٹھ دکھانے والا نہیں ہے ۔ اللہ اس کے ہاتھ میں فتح عطا فرمائے گا ، اور اسی طرح اللہ تمہارے بھائی کے قاتل پر قابو عطا فرمائے گا ۔
مولا علی علیہ السلام کی فضیلت
صحابہ اکرام نے جب یہ اعلان سنا تو ہر ایک نے چاہا کہ حضور پرچم انہیں دیں ۔ مگر پھر رسول اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا ۔ ان دنوں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں تکلیف تھی ۔ چنانچہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ کوئی جا کر انہیں میرے پاس لے آیا ۔ تب حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ گئے اور انہیں لے آیا ۔https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-ali-as-beautiful-quotes-aur-akwal.html
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مولا علی کا سر اپنی گود میں رکھا پھر ان کی آنکھوں میں لعابِ دہن ڈالا ۔ لعابِ دہن آنکھوں میں لگتے ہی ، ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں ، مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی میری آنکھوں میں درد نہیں ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرچم حضرت علی علیہ السلام کو دیا اور ارشاد فرمایا ,"جاؤ اور پیچھے موڑ کر نہ دیکھنا "
خیبر کا قلعہ
حضرت علی علیہ السلام پرچم کو لہراتے ہوئے قلعے کی طرف روانہ ہوئے ، پھر قلعے کے نیچے پہنچ کر انہوں نے جھنڈے کو نصب کر دیا ، قلعے کے اوپر بیٹھے ہوئے ایک یہودی نے ان سے پوچھا تم کون ہو ۔
جواب میں انہوں نے فرمایا :
"میں علی ابن ابی طالب ہوں " اس پر یہودی نے کہا : " تم لوگوں نے بہت سر اٹھایا ہے ، حالانکہ حق وہی ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا "
پھر یہودی قلعے سے نکل کر ان کی طرف بڑھے ، ان میں سے سب سے آگے حارث تھا ، وہ ایک مرحب کا بھائی تھا ،، یہ شخص اپنی بہادری کے سلسلے میں بہت مشہور تھا اس نے نزدیک آتے ہی حضرت علی علیہ السلام پر حملہ کیا ...حضرت علیہ السلام نے اس کا وار روکا اور جوابی حملہ کیا ،اس طرح دونوں کے درمیان تلوار چلتی رہی ۔
آخر مولا علی علیہ السلام نے اسے خون میں نہلا دیا ، اس کے گرتے ہی مرحب آگے آیا ، یہ اپنے بھائی سے زیادہ بہادر اور جنگجو تھا ۔ آتے ہی اس نے زبردست حملہ کیا ، حضرت علی علیہ السلام پر تلوار کا وار کیا ۔
حضرت علیہ السلام نے اس کی تلوار کو اپنی ڈھال پر روکا ۔ حملہ اتنا سخت تھا کہ ڈھال ان کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گری ۔ مرحب اس وقت 2 زرہیں پہنے ہوئے تھا ، وہ تلواریں لگا رکھی تھیں اور عمامے بھی 2 لگا رکھے تھے ، دیکھنے کے لیے خود میں آنکھوں کی جگہ 2 سوراخ کر رکھے تھے ،
اس کے ہاتھ میں نیزہ تھا اس میں 3 پھل لگے تھے ،
اب حضرت علیہ السلام نے اس پر وار کیا تو تلوار مرحب کو کاٹتی چلی گئی ، اس طرح حضرت علی نے انہیں قتل کر دیا .
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ
مرحب کے بعد اس کا بھائی یاسر آگے آیا وہ آگے آیا کر للکارا ،
" کوئی ہے جو میرے مقابلے میں آئے گا " حضرت زبیر بن عوام نے یاسر کو ٹھکانے لگا دیا ، خیبر کی جنگ ہو رہی تھی ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس کا نام اسود رائی تھا ، اور وہ یہودی تھا ۔ ایک شخص کا غلام تھا ۔ اس کی بکریاں چراتا ہوا اس طرف آیا گیا اس نے کہا : " اے اللہ کے رسول مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے "
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر طور پر اسلام کی خوبیاں بیان فرمائیں اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ۔
اس نے فوراً کلمہ پڑھ لیا اس کے بعد اسود رائی تلوار لے کر مسلمانوں کے ساتھ خیبر کی طرف بڑھے اور جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ جب اس کی لاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لائی گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے "
اسود رضی اللہ عنہ کتنے خوش نصیب تھے ، نہ کوئی نماز پڑھی ، نہ روزہ رکھا ، نہ حج کیا پھر بھی جنت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ آخر یہ قلعہ فتح ہو گیا ۔ اس قلعے کے محاصرے کے دوران مسلمانوں کو کھانے کی تنگی ہو گئی ۔
وہ بھوک سے بے حال ہونے لگے ، لوگوں نے اس تنگی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۔
" اے اللہ ان قلعوں میں سے اکثر قلعوں کو فتح کرا کہ ان میں رزق اور گھی کی بہتات ہو "
خیبر کی جنگ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ سچے مومن بھوک، تکلیف اور دشمن کی طاقت سے نہیں گھبراتے۔ حضرت علیہ السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ پر بھروسہ کر کے بڑے بڑے قلعے فتح کیے۔ آج ہمیں بھی اپنی زندگی کی "خیبر" یعنی مشکلات کو ایمان اور صبر سے فتح کرنا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں