توحید کی اہمیت قرآن اور اہل بیت کی روشنی میں

 اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی بنیاد توحید، رسالت اور آخرت پر ہے۔ اہلِ بیتؑ سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ جو اہلِ بیتؑ سے محبت نہیں کرتا وہ نہ مومن ہو سکتا ہے، نہ مسلمان، اور نہ ہی عاشقِ رسول ﷺ۔آپ ﷺ نے فرمایا: "اے اللہ! تو اُس سے محبت فرما جو میرے گھر والوں سے محبت کرے، اور تو اُس سے بیزاری رکھ جو ان سے بیزاری رکھے۔"آئیے! پہلے اہلِ بیتؑ کا مطلب سمجھ لیتے ہیں۔"اہلِ بیت" دو الفاظ کا مرکب ہے۔ "اہل" کا مطلب ہے حق دار، اور "بیت" کا مطلب ہے گھر والے۔ 

مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ جن کی پیروی کرنا ہر مسلمان اور مومن پر فرض ہے۔ یہ اس لیے فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ
پاک میں فرمایا: 

"اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا"


"اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا"

ترجمہ: "اللہ تو یہی چاہتا ہے اے اہلِ بیت کہ وہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔" [الاحزاب: 33] اہلِ بیتؑ میں جو خاص ہستیاں شامل ہیں وہ یہ ہیں: 

حضرت محمد ﷺ، مولا علیؑ، حضرت فاطمہ زہراءؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ۔ان پانچ ہستیوں کو "پنجتنِ پاکؑ" بھی کہا جاتا ہے۔ "پنج" کا مطلب ہے پانچ، اور "تن" کا مطلب ہے جسم۔ 

آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ میرے پنجتن ہیں" یعنی یہ میرے جسم کے پانچ حصے ہیں۔یہی پانچ ہستیاں سب سے افضل ہیں۔ ان کے بعد ان کی اولاد اور ان کی ازواجِ مطہراتؑ بھی اہلِ بیتؑ میں شامل ہیں، لیکن یہ پانچ ان سب سے افضل ہیں۔ کیونکہ اس لقب کا انتخاب سب سے پہلے انہی سے ہوا ہے۔

قرآن میں اہلِ بیتؑ کا مقام

قرآن میں اہلِ بیتؑ کا مقام

"کہہ دیں میں تم سے رسالت کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، بس میرے اہلِ بیت سے محبت کرو"
یعنی کہ دین کی اجرت ہی یہ ہے کہ میری آل سے محبت کرو۔ جیسے انسان کو اللہ نے رزق دیا، اپنی نعمتیں دیں، اس کی اجرت شکر ہے اور تبلیغ ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے اپنی اجرت یہ خود بھی اللہ کا شکر ادا کیا، ہم تک دین پہنچایا۔ اسی طرح آپ ﷺ کی اولاد سے محبت، ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہی سچا دین ہے۔اور یہ عیسائیوں سے مباہلہ ہوا تو اللہ نے کہا: اے نبی! ان سے کہو تم اپنے گھر والے لاؤ، ہم اپنے گھر والے لاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ آپ ﷺ مولا علیؑ، حضرت فاطمہؑ، حسن اور حسینؑ کو لے کر گئے۔ اس سے ثابت ہوا یہی نفسِ رسول ہیں، آپ ﷺ کی جان ہیں۔ اللہ نے خود ان کی طہارت کی گواہی دی ہے۔حدیث میں ہے کہ "میں تم میں 2 بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب، اور میری اہلِ بیت۔ ہم قیامت تک ساتھ رہیں گے، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر ہم ملیں گے۔"

اہلِ بیتؑ کی کشتی


اہلِ بیتؑ کی کشتی 

جب آپ ﷺ نے ان کو چادر کے نیچے لیا تو فرمایا: اے اللہ! یہ میری اہلِ بیت ہیں۔ جو ان سے محبت کرے تو بھی ان سے محبت کر۔ جو ان سے بغض رکھے تو بھی اس سے بغض رکھ۔آپ ﷺ نے فرمایا: میرے دو بیٹے حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔حدیث میں مختلف جگہ اہلِ بیت کی فضیلت بیان ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: میری اہلِ بیت کی مثال نوح کی کشتی کی طرح ہے۔ جو اس میں بیٹھ گیا کامیاب ہو گیا۔"یہاں ایک بات قابلِ غور ہے: یہاں بات حقیقی محبت کی ہے، لفظی محبت کی نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: جس کو میری سنت سے محبت ہے اس کو مجھ سے محبت ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: علی سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن، علی سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔

یہاں بغض سے مراد مولا علیؑ کے طریقے کو چھوڑ کر اپنا طریقہ ہے۔ جو علیؑ کے طریقے پر ہو گا وہی محبِ علی ہو گا۔آپ ﷺ نے فرمایا: میری بیٹی فاطمہؑ جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔

حضرت فاطمہؑ کی محمد ﷺ سے محبت


حضرت فاطمہؑ کی محمد ﷺ سے محبت

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ ﷺ سے تعلق بھی کیسا کمال تھا، ادھر بابا جان کو گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے دیکھتیں آگے بڑھ کر ہاتھ تھام لیتیں، بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بیٹھا لیتی، جب رسول اللہ ﷺ انہیں اپنے گھر میں داخل ہوتا دیکھتے تو بڑھ کر ہاتھ تھامتے، بوسہ دے کر اپنی جگہ پر بیٹھا لیتے۔

(سنن أبي داود: ١٢٥٧)

آج وہ دن آیا کہ جب اسی استقبال کے ارمان لیے گھر میں داخل ہوئیں، لیکن آج کسی نے اٹھ کر ہاتھ نہ تھاما، شاید دوڑ کر بابا کے گلے لگ گئی ہوں گی، تکلیف دیکھی تو تڑپ اٹھیں، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم موت کی تکلیف میں تھے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں : ہائے، میرے بابا جان کی تکلیف!!! آپ ﷺ نے دلاسہ دیا : ”بیٹی! آج کے بعد آپ کے بابا کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی، آپ کے بابا جان پر وہ وقت آ چکا ہے جس سے کسی کو چھٹکارا نہیں اور اب ملاقات قیامت کے دن ہو گی۔“

(مسند أحمد: ٣ / ١٤١، وأصله عند البخاري)

بالآخر روز جدائی آن پہنچا تو ضبط نہ رہا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم وفات پا گئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رو رہی تھیں اور ساتھ کہہ رہی تھیں : ”ہائے ابا جان! آپ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے، ہائے بابا جان! آپ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے، ہائے ابو جی! ہم جبرائیل کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔“

(صحيح البخاري: ٤٤٦٢)

کیا دکھ بھرے الفاظ ہیں کہ امام ثابت البنانی تابعی رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو اس قدر روئے کہ شدتِ گریہ سے ان کی پسلیاں ہلنے لگیں۔

(سنن ابن ماجه: ١٦٣٠)

جب صحابہ دفنانے کے بعد واپس لوٹے تو آنے والوں سے پوچھتی ہیں: ”اے انس! تمہارے دلوں نے کیسے گوارا کر لیا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو مٹی تلے دفن کر کے واپس لوٹ آئے؟؟؟۔“

(صحيح البخاري: ٤٤٦٢)

✿ تنبیہ :

سیدہ فاطمہ کے کچھ اشعار معروف ہیں، سیدنا محمد الباقر رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دفن کر دیا گیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تربتِ حبیب صلی اللہ علیہ و سلم پر آ کھڑی ہوئیں، مٹھی میں قبر کی مٹی پکڑی اور اسے آنکھوں پر لگا لیا اور روتے ہوئے یہ شعر کہنے لگیں :

مَاذَا عَلَى مَنْ شَمَّ تُرْبَةَ أَحْمَدَ

أَنْ لَا يَشُمَّ مَدَى الزَّمَانِ غَوَالِيَا

صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبُ لَوْ أَنَّهَا

صُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ عُدْنَ لَيَالِيَا

”جس نے احمد مجتبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبرِ مبارک کی مٹی کو سونگھا، اسے زمانے میں اچانک کوئی مصیبت پیش نہ آئے۔ مجھ پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات پر وہ غم ٹوٹ پڑے اگر وہ دنوں پر پڑتے تو وہ راتوں میں بدل جاتے۔“

(مثير العزم الساكن إلى أشرف الأماكن لابن الجوزي: ٢ / ٣٠٠، الدرة الثمينة في أخبار المدينة: ١٣٩، إتحاف الزائر وإطراف المقيم للسائر لأبي اليمن ابن عساكر: ١٦٧)

یہ قصہ و اشعار، سند ومتن دونوں اعتبار سے نہایت منکر وباطل ہیں۔

اس کا مرکزی راوی احمد بن محمد الکاتب نامعلوم وغیر متعین ہے، طاہر بن یحیی بن حسین کی توثيق نہیں ملتی، اس کے والد یحیی بھی نامعلوم ہیں.

اگر بالفرض اس کی سند محمد باقر رحمہ اللہ تک صحیح بھی ہوتی تو منقطع ہے کیونکہ باقر رحمہ اللہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ہی نہیں.

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

یہ وہ اشعار ہیں جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں اور ان سے ثابت نہیں.

(سير أعلام النبلاء: ٢ / ١٣٤)

آپ ﷺ اور مولا علیؑ کی محبت اور 3 سب سے بڑی فضیلتیں

آپ ﷺ اور مولا علیؑ کی محبت اور 3 سب سے بڑی فضیلتیں

آپ ﷺ نے فرمایا: علیؑ کی مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کی موسیٰ سے تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، اس کے علیؑ مولا ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: علیؑ سے محبت نہیں رکھے گا مگر مومن، علیؑ سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔

سب سے اہم بات توحید

قرآن ہو، حدیث ہو، اہلِ بیت کا طریقہ ہو، توحید ہر مقام میں سب سے اوپر ہے۔

قرآن میں توحید، حدیث میں توحید، اور اہلِ بیت کے عمل میں توحید۔

توحید قرآن کی روشنی میں

توحید قرآن کی روشنی میں

1. سورہ اخلاص

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

کہہ دو کہ اللہ ایک ہے۔ اس کا کوئی معبود نہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ اس کے والدین ہیں۔2. سورہ بقرہ آیت 186

اللہ اپنے نبی کے ذریعے فرماتا ہے:

اے محمد! جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دیجیے کہ میں شہ رگ سے بھی قریب ہوں۔ ہر پکارنے والے کی فریاد کو سنتا ہوں۔3. سورہ آلِ عمران

اللہ فرماتا ہے:

آپ ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت رسول آئے۔ اگر وہ شہید کر دیے جائیں یا وفات پا جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔4. سورہ حج / سورہ جِن

اللہ فرماتا ہے:

جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا نہیں کر سکتے۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔

توحید اہلِ بیت کی روشنی میں 

توحید کی روشنی میں چند احادیث و نصیحتیں1. نبی کریم ﷺ کا فرمان

کوئی بھی شخص اپنے اعمال کے عوض جنت میں نہیں جائے گا جب تک میرے رب کی رحمت اسے ڈھانپ نہ لے۔

صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ، کیا آپ بھی؟

آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں میں بھی، جب تک میرے رب کی رحمت مجھے ڈھانپ نہ لے۔2. مولا علیؑ کی نصیحت امام حسنؑ کو

جنگ صفین کے بعد مولا علیؑ نے اپنے بیٹے امام حسنؑ کو فرمایا:

اے بیٹے! تمہارا باپ بھی عنقریب فنا ہو جائے گا۔ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔ جب بھی تمہیں کوئی مشکل پیش آئے تو سیدھا اللہ سے رجوع کرنا، اللہ کو پکارنا۔

یاد رکھنا میرے بیٹے حسن! اللہ کی بارگاہ وہ بارگاہ ہے جس نے کوئی دربان مقرر نہیں کیا کہ جس کے ذریعے تم اللہ تک پہنچو۔ اسے نہ کوئی سفارش چاہیے نہ وسیلہ۔ تم براہِ راست اللہ کو پکارو۔3. نبی کریم ﷺ کا فرمان اپنی بیٹی اور پھوپھی کے لیے

اے میری بیٹی فاطمہ! میرے مال میں سے جو لینا ہے لے لو۔ لیکن اگر اللہ نے پکڑ لیا تو میں تمہیں نہیں چھڑا سکوں گا۔

اے میری پھوپھی صفیہ! جو میرے مال میں سے لینا ہے لے لو۔ لیکن اگر اللہ نے پکڑ لیا تو میں تمہیں نہیں چھڑا سکوں گا۔

ان تمام اقوال سے توحید کا وہی پیغام ملتا ہے.

توحید ہر جگہ سب سے پہلے ہے

توحید ہر جگہ سب سے پہلے ہے

اگر توحید نہ ہو تو کوئی بھی عمل، آپ ﷺ سے محبت اور اہلِ بیتؑ سے محبت ثابت نہیں کرتا۔

کیونکہ توحید ہی ہر عقیدے کی چابی ہے۔توحید کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں۔

جس طرح قرآن ہر دین کی چابی ہے، اسی طرح توحید ہر فرقے کو ختم کرنے کی چابی ہے۔انسان کی شروعات توحید سے ہوئی اور اختتام بھی توحید پر ہی ہوگا۔اللہ ہم سب کو اہلِ بیتؑ کے عمل اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


                                                                                                   https://allahhoakbarofficial.blogspot.com  

                                                                     https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/09/5.htm               

          https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/07/tuheed-or-shirk-main-kia-farak-hai.html









تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کی محبت | قرآن و حدیث اور شیعہ کتب کی روشنی میں

ڈپریشن میں نیند نہ آنا: قرآن، سنت اور ڈاکٹر کا علاج - مکمل رہنمائی 2026

ولادتِ مصطفیٰ ﷺ اور ابرہہ کا عبرتناک انجام