خلافتِ راشدہ: اسلام کا روشن ترین دور - قرآن و حدیث و کتبِ شیعہ کی روشنی میں
خلافتِ راشدہ کا تعارف
اس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ 2 سال، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ 10 سال، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ 12 سال، اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ 5 سال 6 ماہ خلیفہ رہے۔ باقی 6 ماہ امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ رہے۔علماء نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کو "خلافتِ محفوظہ" اور حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہما کی خلافت کو "خلافتِ مفتونہ" یعنی فتنوں کا دور کہا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حق اور باطل کے درمیان دیوار عمر ہے۔ جب عمر شہید کر دیے جائیں گے تو میری امت میں فتنے ٹوٹ پڑیں گے"۔آج کے فرقہ واریت کے دور میں اس موضوع کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہم اسے 3 چیزوں کی روشنی میں دیکھیں گے: قرآن، حدیث اور معتبر شیعہ کتب
قرآن کی شہادت صحابہ کرام کے بارے میں
قرآن کی شہادت صحابہ کرام کے بارے میں
اللہ تعالی نے قرآن میں صحابہ کرام کے بارے میں واضح فیصلہ سنا دیا۔1. سورۃ الفتح آیت 29:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ
آپ ﷺ اللہ کے بندے ہیں۔ وہ آپس میں ایک دوسرے پر مہربان ہیں اور کفار کے مقابلے میں سخت ہیں۔یہ آیت صرف 4 خلفاء کے لیے نہیں بلکہ تمام صحابہ کے لیے ہے۔ اور خلفاء راشدین تو صحابہ کے سردار ہیں۔2. سورۃ التوبہ آیت 100:
جو اللہ کے لیے لڑتے ہیں وہی کامیاب ہیں۔ وہ اللہ سے خوش ہیں اور اللہ ان سے خوش ہے۔ اس آیت میں اللہ نے 3 چیزیں ظاہر کیں: رضا، سبقت اور احسان کے ساتھ اتباع۔اللہ کا حکم ہے: "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو"۔
خلفاء کے درمیان محبت کی مثالیں
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-abu-bakar-ra-ki-fazeelat-quran.html
نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قرب پسند تھا۔ کا قرب چاہتا۔ "۔جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے بیعت کی اور ان کے مشیر رہے۔ جنگِ ردہ میں بھی آپ نے پورا ساتھ دیا۔خطاب کے لیے کھڑے ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا۔ "کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اس امت میں سب سے بہترین کون ہے؟ ابوبکر ہیں، پھر عمر بن خطاب ہیں"۔ اور فرمایا: "جو مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دے گا میں اسے مفتر کی سزا دوں گا"۔2.حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما دنیا کے لیے نیک عمل کی مثال تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں "امیر المومنین" کہتے اور ہر معاملے میں مشورہ لیتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی"شہادت کے بعد مولا علی غمگین ہوئے اور کہا": "اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ اللہ تجھے تیرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ جمع کرے گا"۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا رشتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا۔ حوالہ: الکافی، جلد 6، کتاب النکاح۔
کوئی باپ اپنی بیٹی کی شادی دشمن کے گھر نہیں کرتا۔3. حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کودو نوروں والاکا لقب دیا گیا۔ کیونکہ آپ کی 2 بیٹیاں ان کے نکاح میں تھیں۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں بیٹوں ام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کو ان کے دروازے پر پہرے کے لیے کھڑا کر "دیا۔ نہج البلاغہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "خدا کی قسم میں نےعثمان کا ساتھ دیا" https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-abu-bakar-ra-ki-fazeelat-quran.html
اسلام کی تاریخ میں 4 خلفاء راشدین کا دور "دورِ طلائی" کہلاتا ہے۔ یہ 4 ہستیاں ہیں:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ۔ یہ چاروں دین کے ستون ہیں۔ان چاروں کے درمیان جو محبت، احترام، وفا اور بھائی چارہ تھا، وہ قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے لیے مثال ہے۔
خصوصاً حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ان 3 خلفاء سے تعلق انتہائی گہرا، پُرخلوص اور قربت والا تھا۔ آج فرقہ واریت کی وجہ سے جو فساد پیدا کیا جاتا ہے، اس کا خاتمہ مولا علی کی زندگی کے عمل سے ہوتا ہے
دینی بنیاد - صحابہ کی جماعت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما ا:
"میرے صحابہ کے بارے میں فضول بات نہ کرو۔ تم اگر احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خیرات کر دو تو وہ ان کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔۔اس حدیث سے پتہ چلا کہ صحابہ کا مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے۔ اور صحابہ میں بھی سب سے افضل 4 خلفاء ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ خود ان چاروں کو "خیر القرون" کہتے تھے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی دوست، پہلے خلیفہ اور امت میں سب سے افضل تھے -حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ان سے تعلق علم، ادب اور اطاعت کا تھا
۔
حدیث اور اقوال
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ارشاد فرمایا۔:
"کیا "میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں اس امت میں سب سے افضل ابوبکر ہے پھر عمر ہیں"
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: "جو مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دے گا میں اسے مفتر کی سزا دوں گا"۔جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے بیعت کی اور ان کے مشیر رہے۔
۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: "جو مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دے گا میں اسے مفتر کی سزا دوں گا"۔جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے بیعت کی اور ان کے مشیر رہے۔
جنگِ ردہ میں بھی آپ نے پورا ساتھ دیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے جنازے کے قریب آئے اور رو پڑے۔ پھر فرمایا:"اللہ کی قسم! میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھے تیرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ جمع کرے گا۔""میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارہا سنا کہ آپ نے فرمایا: میں نکلا تو ابوبکر اور عمر میرے ساتھ تھے۔ میں گیا تو ابوبکر اور عمر میرے ساتھ تھے۔ میں داخل ہوا تو ابوبکر اور عمر میرے ساتھ داخل ہوئے۔""اللہ کی قسم! روئے زمین پر تم وہ واحد شخص ہو جس کے اعمال کی وجہ سے میری خواہش ہے کہ میں اللہ کے حضور تمہارے ساتھ پیش ہوں۔"
حضرت عمر فاروق رضی اللہعنہ کی فضیلت
ترمذی شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے"۔ . https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-umar-bin-khattab-ra-ka-waqia.html
خلافت میں ساتھ اور وصیت
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-usman-bin-affan-ra-zun-noorain.html
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
فتوحات میں شرکت
ایران، عراق اور شام کی فتوحات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئیں۔ ان تمام جنگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم بھی رہے۔
جنازے اور تدفین
جنگِ جمل اور صفین سے پہلے صلح کی کوشش
1500 سال بعد بھی اگر ہم ان بزرگوں کے درمیان نفرت تلاش کریں تو ہمیں صرف "اختلافِ اجتہادی" ملے گا، "عداوت" نہیں ملے گی۔
اصول جو ثابت ہوتے ہیں
حضرت عمر فاروق رضی اللہعنہ کی فضیلت
ترمذی شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے"۔ . https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-umar-bin-khattab-ra-ka-waqia.html
خلافت میں ساتھ اور وصیت
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کا بہت ساتھ دیا۔
ہر مشکل موقع پر آپ مشیر اور مددگار رہے۔یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے اپنی وصیت بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام لکھوائی اور انہیں اپنا جانشین مقرر کیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دیانت، علم اور قیادت پر کتنا اعتماد تھا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہصحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو "ذوالنورین" کا لقب عطا فرمایا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 2 بیٹیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما ان کے نکاح میں تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
"عثمان! اگر اللہ تمہیں خلافت دے اور منافق تم سے قمیض اتروانا چاہیں تو مت اتارنا"۔
حوالہ: جامع ترمذیhttps://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-usman-bin-affan-ra-zun-noorain.html
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں فرمایا:
"میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں"۔
آپس کی محبت کے دلائل
حفاظت کے لیے بیٹوں کو بھیجنا
مبشرہ عشرہ میں اتحاد
آپس کی محبت کے دلائل
حفاظت کے لیے بیٹوں کو بھیجنا
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر حملے کا خطرہ بڑھا تو مولا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں بیٹوں ام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر پہرے کے لیے کھڑا کر دیا۔2. نہج البلاغہ میں اعتراف
نہج البلاغہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
"خدا کی قسم! میں نے عثمان کی مدد کی اور انہیں نصیحت کی۔ یہاں تک کہ مجھے ڈر لگنے لگا کہ میں ان کا مددگار نہ رہوں"۔3. شہادت پر غم
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"مسلمانوں پر بہت بڑی مصیبت آ گئی ہے"۔
مبشرہ عشرہ میں اتحاد
چاروں خلفاء راشدین "عشرہ مبشرہ" یعنی جنت کی بشارت پانے والے 10 صحابہ میں شامل ہیں۔ باقی 6 یہ ہیں:
حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہم۔ان سب کی آپس کی محبت کی نشانی یہ تھی کہ: یہ ایک دوسرے کا جنازہ پڑھاتے تھے۔ایک دوسرے کی بیٹیوں سے نکاح کرتے تھے۔ایک ساتھ جہاد کرتے تھے۔
معتبر شیعہ کتب کی روشنی میں
شیعہ بھائیوں کی سب سے معتبر 4 کتب ہیں:
الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب، الاستبصار۔
اس کے علاوہ نہج البلاغہ میں بھی خلفاء کی آپس کی محبت کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔
نہج البلاغہ - حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اقوال
بڑے واقعات جو محبت ثابت کرتے ہیں
مشاورت کی مجلس
نہج البلاغہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبات کا مجموعہ ہے۔ اسے علامہ سید رضی رحمہ اللہ نے جمع کیا۔قول 1: بیعتِ ابوبکر کی وجہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کیوں کی؟
آپ نے فرمایا:
"میں نے دیکھا کہ اگر میں اسلام سے الگ ہوتا ہوں تو اسلام میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ اس لیے میں نے صبر کیا۔ ایسا تھا جیسے آنکھ میں کانٹا اور گلے میں ہڈی"۔یہ صبر دشمنی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ "مصلحتِ اسلام" کی وجہ سے تھا۔قول 2: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو مولا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے جنازے پر فرمایا:
"اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ اللہ تمہیں تمہارے دونوں ساتھیوں نبی ﷺ اور ابوبکر کے ساتھ رکھے گا۔ میں نے اکثر رسول اللہ ﷺ سے سنا: میں گیا، ابوبکر اور عمر گئے۔ میں آیا، ابوبکر اور عمر آئے
۔رشتہ داری - سب سے بڑی دلیل
۔رشتہ داری - سب سے بڑی دلیل
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔
حوالہ: الکافی، جلد 6، کتاب النکاحکوئی بھی باپ اپنی بیٹی کی شادی کسی دشمن یا دشمن کے گھر نہیں کرتا۔
نام رکھنے کی دلیلحضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے 5 بیٹوں کے نام رکھے: حسن، حسین، ابوبکر، عمر، عثمان۔
حوالہ: الارشاد، شیخ مفید، جلد 1اگر دشمنی ہوتی تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کے نام ان ہستیوں کے نام پر رکھتے؟
مزید معتبر شیعہ کتب سے ثبوت
. دعائے مغفرت
الکافی جلد 8 میں امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے لیے دعائے مغفرت کی
. مشاورت سے غنیمت کی تقسیم
. مشاورت سے غنیمت کی تقسیم
بحار الانوار جلد 31 میں ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایران فتح کر کے آئے تو انہوں نے مالِ غنیمت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے تقسیم کیا
۔3. قرآن کی جمع میں شرکت
۔3. قرآن کی جمع میں شرکت
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب قرآن مجید جمع کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس عمل میں شامل تھے۔
بڑے واقعات جو محبت ثابت کرتے ہیں
مشاورت کی مجلس
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہر اہم مشورے میں مولا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا جاتا تھا۔ خاص طور پر "مسئلہ کلالہ" میں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا
۔بیت المال کی ذمہ داری
۔بیت المال کی ذمہ داری
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیت المال کی کنجی مولا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کی۔
کیا کوئی اپنے خزانے کی کنجی دشمن کو دیتا ہے؟
فتوحات میں شرکت
ایران، عراق اور شام کی فتوحات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئیں۔ ان تمام جنگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم بھی رہے۔
جنازے اور تدفین
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوئی اعتراض نہیں کیا، بلکہ جنازے میں شامل ہوئے اور نمازِ جنازہ بھی پڑھائی۔
جنگِ جمل اور صفین سے پہلے صلح کی کوشش
1500 سال بعد بھی اگر ہم ان بزرگوں کے درمیان نفرت تلاش کریں تو ہمیں صرف "اختلافِ اجتہادی" ملے گا، "عداوت" نہیں ملے گی۔
اصول جو ثابت ہوتے ہیں
وہ آپس میں رحم دل تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے محبت کا حکم دیا اور سب کی فضیلت بیان کی۔رشتہ داریاں، نام رکھنا، جنگوں میں شامل ہونا، جنازے پڑھانا سب محبت کی دلیل ہے۔نہج البلاغہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خلفاء کا احترام ثابت ہے۔ام شافعی رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا:
"ہم ان کے احترام اور فضیلت کو محفوظ رکھتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں تلواروں سے محفوظ رکھا ہے"۔دعا:
اللہ ہم سب کو صحابہ کرام سے سچی محبت عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
مولا علی رضی اللہ عنہ - حق کے ساتھ
"حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ ہیں"۔اب غور کریں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پہلے خلفاء کا ساتھ دینا، ان کے ہاتھ پر بیعت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ علی رضی اللہ عنہ حق کے ساتھ تھے۔اور خلفاء کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مدد مانگنا، مشورہ لینا اس بات کی دلیل ہے کہ حق بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔: ہمارا موقفکچھ لوگ کہتے ہیں: "اگر علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کو تنہا چھوڑ دیتے تو ہم علی کو چھوڑ دیتے"۔اور ہم کہتے ہیں: "اگر علی رضی اللہ عنہ خلفاء راشدین کو قبول نہ کرتے تو ہم بھی نہ کرتے"۔ ہمیں سب کچھ یاد رکھنا چاہیےکربلا سب کو یاد ہے۔ لیکن ہمیں کربلا کے ساتھ خیبر، بدر، خندق، احد، جنگِ یرموک بھی یاد رکھنی چاہیے۔ جن میں صحابہ بھی شامل تھے اور اہلِ بیت بھی۔اسلام کی سب سے پہلی جنگ جنگِ بدر تھی جس میں 313 صحابہ تھے۔ کیا وہ 313 سب اہلِ بیت تھے؟ نہیں۔ اس میں صحابہ بھی تھے۔
جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا: "اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی"۔: خلاصہ اصولاہلِ بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے
اور صحابہ سے محبت رسول اللہ ﷺ کی محبت کا حصہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر میں دنیا میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن میں نے اپنا خلیل اللہ کو بنایا"۔: آخری نتیجہقرآن، حدیث اور معتبر شیعہ کتب سے ثابت ہوتا ہے کہ خلفاء کے درمیان صرف "اختلافِ رائے" تھا، "دشمنی" نہیں تھی۔
وہ سب ایک دوسرے کے مددگار اور رشتہ دار تھے۔اللہ ہمیں صحابہ اور اہلِ بیت دونوں سے سچی محبت کرنے والا بنائے۔ آمین۔
آپ کی رائے کیا ہے؟ کمنٹ میں بتائیں: کیا صحابہ اور اہلِ بیت کے درمیان محبت تھی؟
آپ کی رائے کیا ہے؟ کمنٹ میں بتائیں: کیا صحابہ اور اہلِ بیت کے درمیان محبت تھی؟
,https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/hazrat-abu-bakar-ra-ki-fazeelat-quran.html
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/
https://allahhoakbarofficial.blogspot.com/2026/08/khulfa-e-rashdeen-ki-apsa-main-muhabbat.html


Comments
Post a Comment